Baaghi TV

تبصرہ کتب،پانی کا بلبلہ،تبصرہ نگار: عبدالحفیظ شاہد

کچھ کتابیں پڑھنے کے بعد انسان اپنے آس پاس کی زندگی کو نئے سرے سے دیکھنے لگتا ہے۔ لوگ وہی ہوتے ہیں، رشتے وہی، گھروں کے مسائل وہی، خوشیاں اور محرومیاں بھی وہی، مگر انہیں دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔
ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کی کتاب پانی کا بلبلہ پڑھتے ہوئے میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور ماشاءاللہ ایک ڈاکٹر فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ طب جیسے مصروف شعبے سے وابستہ ہوتے ہوئے ادب کے لیے وقت نکالنا، پڑھنا، سوچنا اور مسلسل لکھتے رہنا آسان کام نہیں۔ اس کے باوجود ان کا ادبی سفر پندرہ کتابوں تک پہنچ چکا ہے۔
مجھے ان کی تقریباً پانچ کتابیں پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ ہر نئی کتاب کے ساتھ میرے لیے ایک بات زیادہ واضح ہوئی ہے کہ ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کے ہاں لکھنا زندگی کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں زندگی کے عام واقعات بھی اپنی خاص معنویت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔
گو کہ ان کا بنیادی تعلق طب سے ہے لیکن ان کی تحریر پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی زبان رواں ہے، بیان میں گرفت ہے اور سب سے بڑھ کر مشاہدہ شاندار ہے۔ شاید ڈاکٹر ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انہیں روزمرہ زندگی میں انسان کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بیماری صرف جسم میں نہیں ہوتی، انسان اپنے اندر بھی بہت کچھ لیے پھرتا ہے۔ دکھ، خوف، محرومی، تنہائی، خواہش، محبت اور بے یقینی۔ ان انسانی کیفیتوں سے مسلسل واسطہ کسی حساس طبیب کے مشاہدے کو یقیناً وسیع کرتا ہے۔
پانی کا بلبلہ اسی انسانی مشاہدے کی کتاب محسوس ہوتی ہے۔
عنوان ہی سے ایک کیفیت سامنے آتی ہے۔ پانی پر بننے والا بلبلہ خوب صورت ہوتا ہے مگر دیرپا نہیں ہوتا۔ روشنی پڑے تو اس میں رنگ دکھائی دیتے ہیں، ذرا سی حرکت ہو تو شکل بدل جاتی ہے اور اگلے ہی لمحے اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ انسانی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہم بہت سی چیزوں کو مستقل سمجھ کر ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، حالانکہ وقت انہیں بدلتا رہتا ہے۔ تعلقات بدلتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں، لوگ بدلتے ہیں اور بعض اوقات حالات ہمیں بھی بدل دیتے ہیں۔
لیکن میرے نزدیک اس عنوان کی خوب صورتی صرف ناپائیداری تک محدود نہیں۔ بلبلہ عارضی ضرور ہے مگر جب تک قائم رہتا ہے، اپنے اندر ایک دنیا سمیٹے ہوتا ہے۔ شاید انسان بھی ایسا ہی ہے۔ اس کی زندگی کتنی ہی مختصر کیوں نہ ہو، اس کے اندر یادیں، رشتے، خواب، دکھ اور محبتیں پوری شدت کے ساتھ موجود رہتی ہیں۔
کتاب پڑھتے ہوئے سب سے زیادہ جو چیز محسوس ہوتی ہے وہ انسان اور اس کے تعلقات ہیں۔ ہمارے معاشرے میں رشتے بہت ہیں، مگر ہر رشتہ دل کے قریب نہیں ہوتا۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ بھی کبھی ایک دوسرے سے بہت دور ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات کوئی اجنبی چند ملاقاتوں میں اپنا سا لگنے لگتا ہے۔ تعلق صرف خون، نام یا رشتے کے عنوان سے قائم نہیں رہتا۔ اسے وقت، توجہ، اعتماد اور احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہی احساس ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کی تحریروں میں بار بار سامنے آتا ہے۔ وہ انسانی رویوں کو صرف سطح پر دیکھنے کے بجائے ان کے پیچھے چھپی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ کوئی شخص خاموش ہے تو اس خاموشی کی وجہ کیا ہے؟ کوئی بظاہر سخت مزاج ہے تو اس کے پیچھے کوئی دکھ چھپا ہے یا نہیں؟ کسی رشتے میں دوری کیوں پیدا ہوئی؟ محبت موجود ہونے کے باوجود دلوں میں فاصلے کیسے آ گئے؟ ایسے سوالات کتاب کے فکری وسعت کو مزید تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں
ہم عام زندگی میں لوگوں کے بارے میں بہت جلد فیصلے کر لیتے ہیں۔ کسی کو اچھا کہہ دیتے ہیں، کسی کو خود غرض، کسی کو بے حس اور کسی کو مغرور۔ مگر ہر انسان اپنے ساتھ ایک پوری کہانی لیے چل رہا ہوتا ہے اور ہم عموماً اس کہانی کا صرف ایک صفحہ دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی تحریریں اسی بات کا احساس دلاتی ہیں کہ انسان کو سمجھنا، اسے پرکھنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
کتاب میں عورت کی زندگی اور اس کے مسائل بھی اپنی جگہ اہم دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں عورت صرف مظلوم کردار بن کر نہیں آتی بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر سامنے آتی ہے، جس کی اپنی خواہشیں ہیں، اپنی کمزوریاں ہیں، اپنے فیصلے ہیں اور اپنے حالات سے نبرد آزما ہونے کی اپنی صلاحیت ہے۔ بعض جگہ وہ حالات سے لڑتی ہے، کہیں سمجھوتا کرتی ہے اور کہیں اپنی ہی خواہشوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ یہی چیز کرداروں کو زندگی کے قریب رکھتی ہے۔
عورت کے مسائل بیان کرتے ہوئے مصنفہ صرف شکایت نہیں کرتیں بلکہ ان رویوں کو بھی دیکھتی ہیں جو ان مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں رشتوں کے نام پر بہت کچھ برداشت کیا جاتا ہے۔ بعض فیصلے محبت کے نام پر مسلط ہوتے ہیں، بعض قربانیاں فرض سمجھ لی جاتی ہیں اور بعض خاموشیوں کو رضامندی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ان پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کتاب معاشرے کے ایک ایسے حصے کو سامنے لاتی ہے جسے ہم دیکھتے تو ہیں مگر ہمیشہ سنجیدگی سے نہیں دیکھتے۔
پانی کا بلبلہ کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ مصنفہ اپنی بات سمجھانے کے لیے قاری کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک خاص نتیجے تک نہیں لے جاتیں۔ وہ صورتحال سامنے رکھتی ہیں اور قاری کو سوچنے کا موقع دیتی ہیں۔ یہی انداز تحریر کو نصیحت نامہ بننے سے بچاتا ہے۔
زبان کے حوالے سے بھی کتاب کا انداز قابلِ ذکر ہے۔ نثر میں غیر ضروری ثقالت نہیں۔ الفاظ دکھاوے کے لیے نہیں آئے بلکہ بات پہنچانے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ مجھے ایسی اردو زیادہ پسند ہے جس میں ادیب اپنی زبان کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اپنے احساس کو قاری تک پہنچائے۔ ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کے ہاں یہی سادگی نظر آتی ہے۔
اچھی نثر کے لیے مشکل الفاظ ضروری نہیں ہوتے۔ اصل چیز یہ ہے کہ جملہ دل پر اثر کرے اور بات مصنوعی محسوس نہ ہو۔ پانی کا بلبلہ میں کئی مقامات پر یہی فطری پن تحریر کو آگے لے جاتا ہے۔ مصنفہ بات کو بڑے الفاظ میں کہنے کے بجائے عام زندگی کے تجربات سے بات نکالتی ہیں۔ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی اجنبی دنیا کا قصہ نہیں پڑھ رہا بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھ رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کتاب کے موضوعات اسی معاشرے کا حصہ لگتے ہیں۔ ہمارے گھر، ہمارے تعلقات، ہماری معاشرت، ہماری کمزوریاں اور ہمارے فیصلے سب اس دنیا کا حصہ ہیں جس سے اس کتاب کے افسانے کشید کیے گٸےہیں۔ ایک اچھا افسانہ نگار شاید کوئی نئی دنیا ایجاد نہیں کرتا بلکہ ہماری جانی پہچانی دنیا میں چھپی ہوئی کہانی کو پردے کے پیچھے منعکس کردیتا ہے۔
کتب لکھنے کے لٸے مسلسل مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ اور لکھنے کی عادت ہوتی ہے۔ پندرہ کتابوں تک پہنچنے والی مصنفہ کے لیے یہ سفر یقیناً محنت کا سفر ہے۔
مجھے ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے ایک بات خاص طور پر اچھی لگتی ہے کہ وہ زندگی کو صرف سیاہ اور سفید خانوں میں تقسیم نہیں کرتیں۔ انسان اچھا بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ محبت کرنے والا شخص کبھی خود غرض ہو سکتا ہے اور بظاہر سخت انسان کے اندر بہت نرم گوشہ موجود ہو سکتا ہے۔ یہی تضاد حقیقی زندگی کا حصہ ہے اور جب ادب اسے قبول کرتا ہے تو کردار زیادہ جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں۔
شاید اسی لیے پانی کا بلبلہ کا اصل موضوع کوئی ایک واقعہ یا ایک رشتہ نہیں بلکہ خود انسان ہے۔ وہ انسان جو خوش بھی ہوتا ہے، ٹوٹتا بھی ہے، محبت بھی کرتا ہے، غلطیاں بھی کرتا ہے، دوسروں سے توقعات بھی وابستہ کرتا ہے اور پھر انہی توقعات کے ٹوٹنے پر خود کو سمیٹنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
کتاب پڑھتے ہوئے کئی مرتبہ یہ خیال آتا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کتنی چیزوں کو معمولی سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔ کسی کی خاموشی، کسی کی مسکراہٹ، کسی کا اچانک بدلتا ہوا رویہ، کسی کا بے وجہ دور ہو جانا۔ ایک عام آدمی کے لیے یہ صرف واقعات ہیں، لیکن ایک ادیب کی نظر انہیں کہانی بنا دیتی ہے۔
یہی نظر ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کی اصل قوت محسوس ہوتی ہے۔
پانی کا بلبلہ پڑھنے کے بعد کتاب کے عنوان کا مفہوم بھی مزید کچھ وسیع ہو جاتا ہے۔ زندگی واقعی ایک بلبلے کی طرح ہے۔ خوب صورتی بھی اس میں ہے اور بے ثباتی بھی۔ انسان اس کے اندر اپنے خواب سجاتا ہے، رشتے بناتا ہے، محبتیں جمع کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ ساتھ رہے گا۔ پھر وقت آتا ہے اور بہت کچھ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ مگر شاید زندگی کی قدر بھی اسی لیے ہے کہ یہ ہمیشہ کے لیے نہیں۔
ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ نے اپنی مصروف پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ادب کو جس مستقل مزاجی سے وقت دیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔
پانی کا بلبلہ میرے لیے اسی خصوصیت کی ایک جھلک ہے۔ یہ کتاب ہمیں کوئی نئی دنیا دکھانے کے بجائے ہماری اپنی دنیا کو دوبارہ دیکھنے پر آمادہ کرتی ہے۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو سلامت رکھے، ان کی زندگی، ان کےعلم اور تجربے میں مزید وسعت عطا فرمائے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارتا رہے اور ان کا ادبی سفر اسی طرح جاری و ساری رہے۔
اللہ تعالیٰ ان کے قلم میں برکت، فکر میں وسعت اور لفظوں میں تاثیر قاٸم داٸم رکھے۔ آمین۔

More posts