پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ مصطفیٰ کمال کا وہ انٹرویو سندھ اسمبلی میں چلانا چاہے جس میں انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی نے بھارتی پاسپورٹ پر سفر کیا
سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست نہیں جیتی تھی، اِن کو زبردستی اسمبلی بھیجا گیا،ایم کیو ایم کے لوگ باہر اور بات کرتے ہیں اسمبلی میں اور بات کرتے ہیں،دو روز سے تماشا دو روز سندھو دیش کیخلاف قرارداد کا نیا تماشا لگایا ہوا ہے،سندھو دیش سبجیکٹ ہی نہیں،1973 کے آئین سے قبل رائج کسی بھی طریقۂ کار کو آئین کے نفاذ کے بعد دوبارہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ماضی کا کوئی طریقۂ کار موجودہ آئینی نظام میں نافذ کیا جا سکتا ہے تو یہ محض ایک غلط فہمی ہے، آئین اس کی اجازت نہیں دیتا،سندھ کے عوام کو ان سیاسی جماعتوں سے سوال کرنا چاہیے کہ انہوں نے قرارداد کی حمایت کیوں نہیں کی، پی ٹی آئی کے اراکین نے پہلے قرارداد کی حمایت کی تھی، اس کے باوجود بعد میں ان کا موقف تبدیل ہوگیا، پی ٹی آئی اورجماعت اسلامی کو چاہیے تھا کہ وہ قرارداد کی حمایت کرتے کیونکہ ایک طرف یہ جماعتیں سندھ کے عوام کی ترجمانی کا دعویٰ کرتی ہیں اوردوسری جانب اہم معاملات پرواضح موقف اختیارکرنے سے گریزکرتی ہیں۔
سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ جس تنظیم کی کوئی حیثیت نہیں، اس پربات کیوں کی جائے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں ایم کیو ایم کی سیاسی حیثیت صفر ہے، سیاسی جماعتوں کے دعووں اورعملی کردارمیں فرق واضح کرنا ضروری ہے، ہمارا حق بنتا ہے کہ قوم کے سامنے ان کا حقیقی چہرہ رکھیں، سندھ کے عوام کوسیاسی جماعتوں کے بیانات کے بجائے ان کے عملی کردار کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔
