سوشل میڈیا اور بعض افغان طالبان سے منسلک میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی فوجیوں کو شہید کیا گیا اور ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر قبضہ کر لیا گیا۔ تاہم دستیاب معلومات اور زمینی حقائق کے مطابق یہ دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جس میں پاکستانی فوج کی کسی چیک پوسٹ پر قبضہ کیا گیا ہو یا پاکستانی فوجیوں کی شہادت کی تصدیق ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی خبریں محض پروپیگنڈا ہیں جن کا مقصد غلط تاثر پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق 13 مارچ تک آپریشن “غضب للحق” کے دوران افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس کارروائی میں طالبان کے 663 جنگجو ہلاک، 887 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 249 چوکیوں کو تباہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 44 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا اور 224 بکتر بند عسکری گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کے دعوے درست ہوتے تو وہ اس حوالے سے کم از کم کوئی قابل تصدیق ویڈیو، تصاویر یا دیگر شواہد پیش کرتے، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں معلوماتی جنگ کا استعمال بڑھ گیا ہے، جہاں فریقین سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے کسی بھی دعوے کو تسلیم کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
