برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم اپنے پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض پر شہزادہ ولیم کا پرتپاک استقبال ریاض کے نائب گورنر شہزادہ نے کیا، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ ولیم کا یہ دورہ اگرچہ ان کا سعودی عرب کا پہلا سرکاری دورہ ہے، تاہم اس سے قبل وہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ شہزادہ ولیم نے جون 2018 میں فلسطین اور اسرائیل کے دورے کیے تھے، جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقاتیں کی تھیں اور خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ریاض پہنچنے کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تاریخی شہر درعیہ میں شہزادہ ولیم کا باضابطہ استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور سعودی عرب و برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات کے دوران اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط، تعلیم، سیاحت اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سعودی عرب اور برطانیہ کے تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے گا۔
بعد ازاں برطانوی شہزادہ ولیم نے درعیہ کے تاریخی الطریف ضلع کا دورہ کیا اور سلویٰ محل بھی دیکھنے گئے، جہاں انہیں سعودی تاریخ، ثقافت اور ورثے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ شہزادہ ولیم نے سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تاریخی مقامات کی بحالی کی کوششوں کو سراہا۔سیاسی مبصرین کے مطابق شہزادہ ولیم کا یہ دورہ سعودی عرب اور برطانیہ کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
