بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی میں ایک خالی مکان میں نماز پڑھنے پر 12 مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں کچھ افراد کو ایک مکان کے اندر نماز ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائی محمد گنج گاؤں کے چند افراد کی شکایت پر کی گئی، جنہوں نے اطلاع دی تھی کہ ایک خالی مکان کو کئی ہفتوں سے مبینہ طور پر عارضی مدرسہ یا نماز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ مکان حنیف نامی شخص کا تھا اور اسے جمعہ کی نماز کے لیے عارضی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ گرفتار افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے انہیں ضمانت مل گئی۔
کانگریس کے رہنما ڈاکٹر شما محمد نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ یوپی پولیس اپنے ہی شہریوں کو ان کے گھروں میں نماز پڑھنے پر گرفتار کر رہی ہے، اور پوچھا کہ ان کے خلاف کس قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا ریاست میں تمام مجرم ختم ہو چکے ہیں کہ اب پولیس شہریوں کو مذہبی عبادات پر خوفزدہ کرنے میں مصروف ہے۔
خالی مکان میں نماز پڑھنے پر 12 مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج
