Baaghi TV

مارگلہ انکلیو پروجیکٹ میں صوبیدار غلام علی کی یادگار بارے سوشل میڈیا پر جھوٹا بیانیہ

مارگلہ انکلیو میں پہلی جنگ عظیم میں شمالی افریکہ کمپین کے ہیرو صوبیدار غلام علی سے منصوب ایک یادگار کے توڑے جانے کے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی حقائق کے منافی ہے۔ڈی ایچ اے نے سی ڈی اے کے ساتھ مل کر سب سے پہلے اس یادگار آثار قدیمہ کے محکمے کے چارج پر دلوایا۔اس کے بعد صوبیدار غلام علی کے وارث سے زلفقار علی سے ایفیڈیوٹ پر این او سی لی۔اس یادگار کو اپنی جگہ سے دو سو میٹر دور نادرن بائی پاس چوک میں خوبصورت انداز میں دوبارہ نصب کیا جائے گا

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں پہلی جنگِ عظیم کی یاد میں قائم صوبیدارغلام علی کی یادگار کو غیر قانونی طور پر مسمار کر دیا ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق یہ تمام دعوے جھوٹے، گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہیں۔

سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ پلیٹ فارمز پر یہ خبر پھیلائی گئی کہ سی ڈی اے نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد ریجن کے ساتھ مل کر مارگلہ انکلیو ہاؤسنگ پروجیکٹ کے لیے اس تاریخی یادگار کو تباہ کر دیا۔ تاہم سی ڈی اے اور ڈی ایچ اے اعلیٰ حکام نے واضح طور پر ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یادگار کی منتقلی کا مارگلہ انکلیو ہاؤسنگ پروجیکٹ سے کوئی تعلق نہیں۔تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سی ڈی اے نے یادگار کو نہ تو مسمار کیا اور نہ ہی ختم کیا، بلکہ اسے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ سرکاری ریکارڈز اور متعلقہ اداروں کی تصدیق کے مطابق یہ اقدام یادگار کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا گیا، جس میں تمام قانونی مراحل، متعلقہ اداروں کی منظوری اور خاندان کی رضامندی شامل تھی۔

صوبیدار غلام علی نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران مشرقی افریقہ میں خدمات انجام دیں اور غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی جرات مندی کے اعتراف میں انہیں اعزاز سے نوازا گیا۔ بعد ازاں برطانوی حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ یادگار تعمیر کروائی۔سی ڈی اے حکام کے مطابق، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد ریجن نے سی ڈی اے کے اشتراک سے یادگار کی قانونی منتقلی کا باقاعدہ عمل شروع کیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں محکمہ آثارِ قدیمہ سے رہنمائی حاصل کی گئی،سی ڈی اے کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد ہوئے،محکمہ آثارِ قدیمہ نے واضح کیا کہ یہ یادگار اس کی سرکاری فہرست میں شامل نہیں، اس لیے
100 سے 200 میٹر کے اندر منتقلی کے لیے این او سی درکار نہیں،اس کے باوجود، ڈی ایچ اے نے صوبیدار غلام علی کے پوتے کے پوتے ذوالفقار (جو اس وقت آئیسکو میں سپرنٹنڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں) سے رابطہ کیا۔ ذوالفقار نے یادگار کی منتقلی پر تحریری حلف نامے کے ذریعے رضامندی ظاہر کی۔ خاندان کے دیگر افراد بیرونِ ملک مقیم ہیں۔

یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ سی ڈی اے نے تاریخی یادگار کو نقصان پہنچانے کے بجائے قانون کے مطابق محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ ایسی خبروں پر یقین کرنے سے قبل مصدقہ ذرائع اور فیکٹ چیک کو ضرور مدنظر رکھیں۔

More posts