نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی عمارت سے چھلانگ لگانے کی کوشش، اہم انکشافات سامنے آگئے
لاہور میں نجی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی جانب سے عمارت سے چھلانگ لگانے کی کوشش کے واقعے میں ابتدائی تفتیش کے دوران اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق طالبہ عمارت سے کودنے سے قبل تقریباً 27 منٹ تک فون پر بات کرتی رہی، تاہم واقعے سے قبل کی گئی آخری کال کا ریکارڈ طالبہ نے خود ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالبہ واقعے کے روز صبح یونیورسٹی پہنچی تھی، تاہم وہ کلاس میں شریک نہیں ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ ذہنی دباؤ کا شکار تھی اور تعلیمی نتائج پر شدید عدم اطمینان محسوس کر رہی تھی۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبہ کو ایک ٹیسٹ میں 35 میں سے 18 نمبر ملے تھے، جس پر وہ کافی پریشان تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق طالبہ نے اپنی کم نمبر آنے کی بات اپنے والد اور بھائی سے بھی شیئر کی تھی، جس کے بعد اس کی ذہنی کیفیت مزید متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے بیان کی روشنی میں تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا جبکہ یونیورسٹی اور اطراف میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج تحویل میں لے لی گئی ہے تاکہ واقعے سے قبل اور بعد کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔پولیس کے مطابق تاحال طالبہ کے لواحقین کی جانب سے کسی قسم کی قانونی کارروائی کے لیے درخواست جمع نہیں کرائی گئی، تاہم قانون کے مطابق تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش جاری رکھی جائے گی۔
دوسری جانب خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق طالبہ کو دماغ پر شدید چوٹ آئی ہے جبکہ کمر اور گھٹنوں میں فریکچر بھی تشخیص ہوا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طالبہ کی حالت تشویشناک مگر قابو میں ہے اور اسے مکمل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
