لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں رائے ونڈ روڈ پر واقع ایک نجی یونیورسٹی میں مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگانے والی 21 سالہ طالبہ فاطمہ کی حالت میں نمایاں بہتری آ گئی ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق طالبہ ہوش میں آ چکی ہے اور اسے وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ آئی سی یو میں اس کا علاج جاری ہے۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبہ فاطمہ اس وقت آکسیجن سپورٹ پر ہے، تاہم اس کے ہیمو ڈائنامکس مستحکم ہیں اور مجموعی طبی حالت میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق طالبہ نے ہوش میں آنے کے بعد اپنے اہلِ خانہ سے بات چیت بھی کی ہے، جسے ڈاکٹروں نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی سے متعلق ممکنہ سرجری کے بارے میں دوبارہ تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد آئندہ کے علاج سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل طالبہ کی نگرانی کر رہی ہے اور ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل کو طالبہ کی صحت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں اب تک کیے گئے علاج، موجودہ طبی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق مکمل آگاہی دی گئی۔
یاد رہے کہ نجی یونیورسٹی کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے مبینہ طور پر یونیورسٹی کی عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی تھی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی تھی۔ واقعے کے فوراً بعد طالبہ کو تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق طالبہ ڈی فارم کی طالبہ ہے اور نارنگ منڈی، ضلع شیخوپورہ کی رہائشی ہے۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پولیس نے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں سے واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
