وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں پنجاب حکومت کی سرپرستی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ جان بوجھ کر تشویشناک سلوک کیا گیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ علاج کے باوجود عمران خان کی بینائی صرف 10 سے 15 فیصد رہ گئی ہے اور ان کے ذاتی معالج کو مکمل معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ساتھ “طبعی دہشت گردی” کی گئی اور ان کی آنکھ کے مسئلے کو سنگین حد تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا کہ کیس کی جلد سماعت کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، لیکن حکومت کی توجہ عمران خان کو قید میں رکھنے اور انہیں جھکانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے معاشی صورتحال پر بھی تنقید کی اور کہا کہ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے اور ڈالر کو مصنوعی طور پر روکا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈالر اپنی اصل سطح پر آ گیا تو ملک کے قرضے 36 ہزار ارب سے بڑھ کر 55 ہزار ارب تک پہنچ سکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر حالات یوں ہی رہے تو عوام احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ طبعی دہشت گردی کی گئی, سہیل آفریدی
