سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایوان بالا کی جانب سے بھیجے گئے عوامی اہمیت کے ایک نکتے کے تحت کوئٹہ کے لیے پروازوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے معاملے پر غور کیا گیا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی جانب سے چترال سے آنے جانے والی پروازوں کی آپریشنل صورتحال پر بریفنگ لی۔ اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر زرقہ سہروردی تیمور، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر عطا الحق نے شرکت کی۔قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کا خیرمقدم کیا اور قومی فضائی ادارے میں خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی اور نجی شعبے کے ذریعے آپریشنل مینجمنٹ کے اقدامات کو سراہا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے اس امر پر زور دیا کہ حکومتوں کا کام کاروبار چلانا نہیں ہوتا اور نجکاری کے نتیجے میں وہ بڑے عوامی وسائل بچیں گے جو ماضی میں بیل آؤٹ پیکجز پر خرچ کیے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب پی آئی اے کو پیشہ ور ماہرین مؤثر انداز میں چلائیں گے اور ادارہ اپنی سابقہ ساکھ بحال کرے گا۔
کمیٹی نے چترال کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ معطلی طیاروں کی کمی کے باعث ہوئی ہے کیونکہ اس وقت صرف دو اے ٹی آر طیارے آپریشنل ہیں۔ تاہم کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ نجکاری اور مالی وسائل کی فراہمی کے بعد وزارت کی اولین ترجیح گراؤنڈڈ طیاروں بشمول اے ٹی آر طیاروں کی مرمت ہے تاکہ چترال روٹ پر سروس بحال کی جا سکے۔ سیکرٹری دفاع نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ اس روٹ کی بحالی کے لیے کنسورشیم کو سفارشات دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ چترال اور گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ گرین ٹورازم اقدام اور وزارتِ دفاع کے درمیان تعاون فضائی سفر کو بڑھانے اور روٹس کی افادیت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو زیر غور منصوبوں سے بھی آگاہ کیا جن کے تحت چارٹرڈ ہیلی کاپٹر سروسز متعارف کرانے اور چترال کی پروازوں کو چارٹرڈ آپریشنز کے ساتھ منسلک کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے چترال کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھانے اور ہفتہ وار ایک سے دو پروازیں شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض روٹس اسٹریٹجک نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور انہیں محض منافع کے پیمانے پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔
قائمہ کمیٹی نے کوئٹہ کے لیے پروازوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے مسئلے کا بھی جائزہ لیا۔ اراکین کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور وزارتِ دفاع پر زور دیا کہ کرایوں کی حد مقرر کرنے کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے کیونکہ بلوچستان کے رہائشیوں کو حد سے زیادہ کرایوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ عام طور پر ہوائی کرایوں کا تعین طلب اور رسد کی ضروریات کے تحت ہوتا ہے۔ تاہم کمیٹی کی سفارش پر سیکرٹری دفاع نے یقین دہانی کرائی کہ کرایوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے کیپنگ میکانزم وضع کیا جائے گا۔ کمیٹی نے موجودہ ایئرپورٹ پروٹوکول سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی بھی کی اور اس میں بہتری پر زور دیا۔ متعلقہ حکام نے علیحدہ کاؤنٹرز کے قیام اور پروٹوکول میکانزم کی مزید بہتری کی یقین دہانی کرائی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ہدایت کی کہ کوئٹہ کے لیے زائد کرایوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایئرلائن معاہدوں میں مناسب سہولت کار شقیں شامل کی جائیں تاکہ بلوچستان کے عوام کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مزید برآں قائمہ کمیٹی نے ایئرپورٹ پاسز کی مدتِ معیاد اور ایئرپورٹس پر بیت الخلاء کی خراب حالت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ ایئرپورٹ سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی کابینہ نے حال ہی میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے تین بڑے ایئرپورٹس پر ایئرپورٹ سروسز آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ مسافروں کو درپیش مشکلات میں کمی کے لیے ایئرپورٹ پاسز کی مدت ایک سال سے بڑھا کر دو سال کی جائے۔چیئرمین و اراکین نے کہا کہ قائمہ کمیٹی عوامی سہولیات اور تعمیری اقدامات کے لیے پُرعزم ہے۔
قائمہ کمیٹی کو پاکستان۔افغانستان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان و سعودی عرب کے مابین حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے پر اِن کیمرہ بریفنگ بھی دی گئی۔قائمہ کمیٹی نے کامیابیوں کو سراہا اور دفاعی معاہدے کی تعریف کی۔ اراکین کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ وفاقی وزیر برائے دفاع باقاعدگی سے قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کریں۔
