چترال کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقے گہریت گول میں غیر ملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کر لیا۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق یہ شکار کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو براہِ راست معاشی فوائد فراہم کرنا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے بتایا کہ روس سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شکاری نے مارخور کے شکار کے لیے 68 ہزار امریکی ڈالر کے عوض باقاعدہ لائسنس حاصل کیا تھا۔ شکار کیے گئے کشمیری مارخور کے سینگوں کی لمبائی 41 انچ ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس نسل کے بالغ اور صحت مند جانور کی نشاندہی کرتی ہے۔ حکام کے مطابق شکار سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور مقررہ ضوابط کے مطابق نگرانی میں کارروائی کی گئی۔محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ اس رقم سے علاقے میں تعلیم، صحت، بنیادی انفراسٹرکچر، روزگار کے مواقع اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جس سے مقامی افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
حکام کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد جنگلی حیات، خصوصاً نایاب اور محفوظ نسلوں کے جانوروں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ محدود اور سائنسی بنیادوں پر دیے جانے والے شکار کے اجازت ناموں کے ذریعے نہ صرف جانوروں کی آبادی کو کنٹرول اور محفوظ رکھا جاتا ہے بلکہ مقامی لوگ بھی جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ترغیب پاتے ہیں۔محکمہ جنگلی حیات نے مزید کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت کے باعث غیر قانونی شکار میں نمایاں کمی آئی ہے اور مقامی آبادی اب جنگلی جانوروں کو نقصان پہنچانے کے بجائے ان کے تحفظ کو اپنے مفاد سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ بھی ایسے پروگرام شفافیت، قانون اور ماحولیاتی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری رکھے جائیں گے تاکہ قدرتی ورثے کا تحفظ اور مقامی ترقی ساتھ ساتھ ممکن بنائی جا سکے۔
