وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اوپن کورٹ میں چیف جسٹس کو سلام کیا لیکن سوا گھنٹے انتظار کے بعد بھی ایک صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کو جواب نہیں دیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد سے ملاقات نہیں ہو رہی تھی اس لیے اوپن کورٹ میں گئے، چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی، روسٹرم پر گیا اور سلام کیا لیکن جواب نہیں ملا، ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، ہم تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پرامن احتجاج کرتے ہیں جو ہمارا حق ہے، سوا گھنٹے انتظار کے بعد بھی چیف جسٹس نے سلام کا جواب نہیں دیا، شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنے کی درخواست بھی جمع کرائی گئی لیکن اسے منظور نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے کوریڈور میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کی ویڈیو بنانے والے شخص سے پولیس نے موبائل فون چھین لیا،پولیس نے سہیل آفریدی کے ساتھ موجود شخص سے موبائل فون چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کرائی، ویڈیو ڈیلیٹ کرانے کے بعد متعلقہ شخص کو موبائل فون واپس کر دیا گیا،عدالتی احکامات کے تحت عدالت کے احاطے میں موبائل فوٹیج بنانے پر پابندی ہے۔
