قدیم مصری ریاست کی ملکہ ’قلو پطرہ‘ کی زندگی پر بننے والی ہا لی وڈ فلم کے لیے 35 سالہ اسرائیلی اداکارہ گال گدوت کا انتخاب کیا گیا ہے جس پر دنیا بھر میں ایک تنازع کھڑا ہو گیا پے-
باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ ڈیڈ لائن نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ’قلو پطرہ‘ کی زندگی پر فلم بنانے کے لیے ہا لی وڈ کے معروف پروڈکشن ہاؤس پیراماؤنٹ پکچرز نے مالکانہ حقوق حاصل کرلیے
رپورٹ کے مطابق جہاں معروف اسٹوڈیو نے فلم کے مالکانہ حقوق حاصل کرلیے وہیں پروڈکشن ہاؤس نے فلم کی ہدایت کار اور اداکارہ کا بھی انتخاب کرلیا ہے اور فلم کی مرکزی اداکارہ کے لیے یہودی اداکارہ گال گدوت کا انتخاب کرلیا گیا۔
گال گدوت سابق اسرائیلی آرمی اہلکار ہیں اور وہ گزشتہ کئی سال سے امریکا میں مقیم ہیں انہوں نے ہا لی وڈ کی پہلی ویمن سپر ہیرو فلم ’ونڈر ویمن‘ میں بھی مرکزی کردار ادا کیا تھا جبکہ گال گدوت کی نئی فلم ’ونڈر ویمن 1984‘ کو بھی آئندہ سال تک ریلیز کیا جائے گا اور وہ دیگر ہا لی وڈ فلموں میں بھی جوہر دکھا چکی ہیں۔
گال گدوت کو مصری ملکہ کے کردار کے منتخب کئے جانے پر جہاں یہودیوں سمیت امریکہ اور یورپ کے کچھ شائقین نے خوشی کا اظہار کیا ہےوہیں اسرائیلی اداکارہ کو مصری ملکہ کے کردار کے لیے منتخب کیے جانے پر کئی شائقین نے برہمی کا اظہار کیا۔
اسرائیلی اخبار ہارتز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہودی اداکارہ کو مصری ملکہ کے کردار کے لیے منتخب کیے جانے پر مختلف نسل اور خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے تنقید کی اور کہا کہ مصری خاتون کا کردار یہودی اداکارہ نہیں نبھا سکتیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد امریکی صحافی سمیرا خان نے ہولی وڈ پر سخت تنقید کرتے ہوئے تجویز دی کہ مصری ملکہ کا کردار کوئی عرب اداکارہ کو دیا جانا چاہیے تھا۔
Which Hollywood dumbass thought it would be a good idea to cast an Israeli actress as Cleopatra (a very bland looking one) instead of a stunning Arab actress like Nadine Njeim?
And shame on you, Gal Gadot. Your country steals Arab land & you’re stealing their movie roles… smh. https://t.co/GY5tYEcl4K pic.twitter.com/JcrnM1RUQq
— samirah (@SameeraKhan) October 11, 2020
پاکستانی نژاد خاتون صحافی نے اپنی ٹوئٹ میں کچھ عرب اداکاراؤں کی تصاویر دیتے ہوئے کہا کہ ہولی وڈ کو یہودی اداکارہ کے بجائے عرب اداکارہ کو ہی منتخب کیا جانا چاہیے۔
Cleopatra was part Greek and part Berber. That’s what we know for sure. Scholars have been debating this topic for centuries now.
— samirah (@SameeraKhan) October 11, 2020
سمیرا خان نے کہا کہ قلوپطرہ حصہ یونانی تھا اور کچھ حصہ بربر۔ یہ وہی ہے جو ہم یقینی طور پر جانتے ہیں۔ علمائے کرام صدیوں سے اس موضوع پر بحث کر رہے ہیں۔
White libs flipped TF out when white actors played MYTHICAL Egyptian gods in “Gods of Egypt,” but all is well when a WHITE Israeli actress of European descent is cast as Cleopatra. https://t.co/8eVtxiPL4V
— samirah (@SameeraKhan) October 11, 2020
ہارتز کے مطابق جہاں کئی افراد نے یہودی اداکارہ کو مصری ملکہ کا کردار دیے جانے پر تنقید کی، وہیں کچھ افراد نے یہ بھی کہا کہ ’قلو پطرہ‘ عرب خاتون نہیں تھیں۔
بعض مداحوں نے دعویٰ کیا کہ ’قلو پطرہ‘ یونانی نسل کی مقدونیائی خاتون تھیں۔
دوسری جانب اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ گال گدوت کو ’قلو پطرہ‘ کے کردار کے لیے منتخب کیے جانے پر سوشل میڈیا پر شدید بحث نے ثقافتی تنازع کا روپ اختیار کرلیا۔
افریقہ کے مصنف ، جیمز ہال نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ فلم بینوں کو کسی بھی نسل کی افریقی اداکارہ ملنی چاہئے۔
امریکی مصنف مورگن جارکنز نے ٹویٹ کیا کہ قلوپطرہ کو "براؤن پیپر بیگ سے زیادہ گہرا” کوئی ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ زیادہ "تاریخی اعتبار سے درست” ہوگا۔
کئی افراد نے گال گدوت کو مصری ملکہ کے کردار کے لیے منتخب کیے جانے کو ثقافت کی تبدیلی کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ ایسے عمل سے تاریخی ثقافتی چیزوں اور کرداروں کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جبکہ کئی سوشل میڈیا صارفین نے استدلال کیا کہ قلوپطرہ عرب یا افریقی سے زیادہ یونانی یا مقدونیائی ہے-
گال گدوت کو ’قلو پطرہ‘ کا کردار دیے جانے پر ہونے والے تنازع پر تاحال ہولی وڈ پروڈکشن کمپنی، خود اداکارہ یا فلم کی ہدایت کارہ پیٹی جینکنس سمیت پروڈیوسرز نے بھی کوئی رد عمل نہیں دیا۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ’قلو پطرہ‘ کی زندگی پر بنائی جانے والی تھرلر پولیٹیکل بائیوگرافی فلم کوکب تک ریلیز کیا جائے گا، تاہم امکان ہے کہ فلم کی شوٹنگ آئندہ سال شروع کی جائے گی۔
’قلو پطرہ‘ کی زندگی پر پہلے بھی 1963 میں ہا لی وڈ میں اسی نام سے فلم بنائی جا چکی ہے جس میں معروف اداکارہ ایلزبتھ ٹیلر نے مصری ملکہ کا کردار ادا کیا تھا۔
’قلو پطرہ‘ 45 ویں قبل مسیح صدی میں مصر کی خوبرو اور شاطر ملکہ رہ چکی ہیں انہیں فرعونوں کے دور کی سب سے حسین و جمیل و شاطر ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔
’قلو پطرہ‘ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دشمن ریاست رومی سلطنت کے شہزادے اور فوجی جرنل جولیس سیزر کو بھی اپنے حسن کی بدولت دام میں گرفتار کر رکھا تھا۔
’قلو پطرہ‘ کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب جولیس سیزر کا خاتمہ ہوا تو انہوں نے ایک اور رومی جنرل مارک انتھونی کو بھی اپنے دام میں گرفتار کیا اور اس سے بھی عشق لڑاتی رہیں۔
’قلو پطرہ‘ کو نہ صرف مصر کی حسین ترین خاتون اور ملکہ کا اعزاز حاصل تھا بلکہ کہا جاتا ہے کہ ان کی جوانی اور خوبصورتی کے قصے روم اور یونان سمیت اس وقت کی دیگر سلطنتوں تک مشہور تھے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ فلم میں قلوپطرہ کی زندگی میں آنے والے مرد جرنیلوں یعنی جولیس سیزر اور مارک انتھونی سمیت دیگر کے کردار کے لیے کن اداکاروں کو کاسٹ کیا جائے گا۔
