وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے نیشنل واٹر سکیورٹی ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو ایک سنگین اور طویل پانی کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی نہ صرف پاکستان کے آبی حقوق بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ بھارت کی آبی جارحیت کا مقصد پاکستان کو پانی کی شدید قلت میں مبتلا کرنا ہے، جبکہ دریاؤں کے بہاؤ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال بھی ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا تقریباً 80 فیصد پانی دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے، اور پانی کا مؤثر تحفظ ہی فوڈ سکیورٹی اور معاشی استحکام کی بنیاد ہے۔ وفاقی وزیر نے ٹاسک فورس کو ہدایت دی کہ وہ صرف مسائل کی نشاندہی تک محدود نہ رہے بلکہ قابلِ عمل اور فوری حل بھی تجویز کرے۔