Baaghi TV

10 ارب سے زائد مالیت کا طیارہ،مریم نواز شدید تنقید کی زد میں

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے نیا طیارہ خرید لیا گیا،گلف اسٹریم جی 500 طیارے کی قیمت 10 ارب روپے کے قریب بتائی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق طیارے کا نمبر این 144 ایس اور قیمت تقریباً 10 ارب روپے ہے، اس طیارے کا پاکستان میں سفر کا ریکارڈ بھی ہے، یہ طیارہ ابھی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہوا، یہ امریکی رجسٹریشن پر ہے،طیارے کی خریداری پر پنجاب حکومت کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ عوام کے پیسے عوام پر لگائے جائیں، قومی خزانے سے لگژری طیارہ خریدنا زیب نہیں دیتا۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا مؤقف ہےکہ ائیر پنجاب کے لیے ایک فلیٹ بنانا ہے جس میں ہرطرح کے جہاز ہوں گے، مختلف جہاز خرید رہے ہیں کچھ لیزپرلیں گے، یہ اسی سلسلےکی کڑی ہے، جیسے ہی معاملات حتمی شکل اختیار کریں گے آپ کو بتا دیں گے، مفتاح اسماعیل کو ادھوری بات کرنےکا بہت شوق ہے، ہم بہت ساری ٹیکس چوریوں سے متعلق بات کریں گے تو یہ سیاسی انتقام ہوجائےگا۔

دوسری جانب پنجاب ائیر لائن کی پہلی پرواز اپریل سے شروع ہوگی جس کے لیے پہلے مرحلے میں7 جہاز خریدے جا رہے ہیں،ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق پنجاب ائیرلائن صوبے کی اپنی ائیرلائن ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 2 سال تک صرف اندرون ملک پروازیں چلائی جائیں گی، پنجاب ائیرلائن 2 سال بعد انٹرنیشنل فلائٹس بھی شروع کرےگی۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کا موجودہ ہیلی کاپٹر بھی پنجاب ائیرلائن کا حصہ بنا دیا جائےگا، وزیراعلیٰ سرکاری سفر کے لیے پنجاب ائیرلائن کے جہاز استعمال کریں گی، ان کے لیے الگ سے خصوصی جہاز نہیں خریدا جائےگا۔ذرائع کے مطابق قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہ ڈالنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، موجودہ اور نئے جہازوں کو مکمل طور پر منافع کے حصول کے لیے استعمال کیا جائےگا، نئے جہاز مسافروں اور وزیراعلیٰ دونوں کے استعمال میں آئیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب ائیر لائن کا جہاز استعمال کریں گی تو اس کا کرایہ دیا جائےگا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور پنجاب کی “اونچی اُڑان” پر سوالات کھڑے ہو گئے ،قومی ایئرلائن Pakistan International Airlines جس کے پاس 18 آپریشنل اور 30 قابلِ مرمت جہاز تھے، اسے تقریباً 10 ارب میں فروخت کر دیا گیا۔دوسری طرف 19 نشستوں والا ایک طیارہ 11 ارب میں خرید لیا گیا۔قومی ایئرلائن ختم کرکے صوبائی ایئرلائن بنانے کی دانشمندی کیا ہے؟ عوام جواب چاہتے ہیں۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کی طرف سے یہ موقف پیش کیا جا رہا ہے کہ مبینہ گلف اسٹریم طیارہ “ایئر پنجاب” کے فلیٹ کے لیےُ لیاجا رہا ہے، مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ گلف اسٹریم کوئی کمرشل پسنجر جہاز نہیں بلکہ ایک لگژری پرائیویٹ جیٹ ہے جو دنیا بھر میں وی آئی پی موومنٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ تاثر پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ یہ سہولت موجودہ یا آئندہ وزرائے اعلیٰ کے استعمال کے لیے ہوگی۔ اس پر بھونڈی صفائیاں دینے کے بجائے سچ واضح کرنا چاہیے کیونکہ مسئلہ صرف ایک جہاز کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔

ایک ایسا صوبہ جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، ہزاروں فیکٹریاں بند اور لاکھوں افراد بے روزگار ہوں، جہاں نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہوں اور کاروباری سرگرمیاں سکڑتی جا رہی ہوں، وہاں سرکاری وسائل کا رخ روزگار، صنعت اور ریونیو جنریشن کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ نمائشی منصوبوں کی طرف۔ یہ پیسہ آخر عوام کا ہے، کوئی ذاتی جاگیر نہیں کہ جس پر دل چاہے تجربات کیے جائیں۔مزید تضاد یہ ہے کہ وفاقی سطح پر یہی جماعت نجکاری کا درس دیتی ہے، کہتی ہے حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ ریگولیٹ کرنا ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آنا چاہیے۔ مگر دوسری طرف صوبائی حکومت خود ایئرلائن بنانے نکل پڑی ہے۔ ایک ہی جماعت کے اندر پالیسی کا یہ تضاد آخر کس منطق کے تحت ہے؟ ایک طرف “پرائیویٹائزیشن”، دوسری طرف “سرکاری بزنس ایکسپینشن” عوام کو آخر کون سا بیانیہ ماننا چاہیے؟

اگر واقعی حکومت اپنی کمرشل اہلیت اور گورننس ماڈل ثابت کرنا چاہتی ہے تو میدان کھلا ہے۔ پنجاب کی ڈسکوز نجکاری کے عمل میں جا رہی ہیں انہیں سنبھال کر دکھائیں، اپنے نظم و نسق سے چلا کر عوام اور صنعت دونوں کو ریلیف دیں، لائن لاسز کم کریں، بجلی سستی کریں، ریکوری بہتر کریں۔ اصل امتحان وہ ہے جہاں عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔

حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں فضائی سفر عام آدمی کی ضرورت نہیں بلکہ ایک محدود طبقے کی سہولت ہے۔ اندازاً صرف دو فیصد آبادی سالانہ فضائی سفر کرتی ہے، جبکہ بجلی سو فیصد پاکستانی استعمال کرتے ہیں۔ ہر گھر، ہر دکان، ہر اسپتال، ہر صنعت اور پوری معیشت بجلی پر چلتی ہے۔ اب فیصلہ خود کریں کہ زیادہ اہم کیا ہے ایک ایئرلائن یا بجلی کا نظام؟ اگر کمرشل کاروبار کرنے کا واقعی شوق ہے تو اس شعبے میں آئیں جہاں سو فیصد عوام کو ریلیف ملے، جہاں گورننس بہتر ہو تو نرخ کم ہوں، سروس بہتر ہو اور معیشت مضبوط ہو۔ورنہ یہ سب کچھ محض نمائشی منصوبے لگتے ہیں جو وقتی سرخی تو بنا سکتے ہیں مگر عوام کی زندگی نہیں بدل سکتے۔ قوم اب نعروں سے نہیں، ترجیحات سے فیصلے کرے۔

More posts