Baaghi TV

کنٹینروں سے محصور جوڑواں شہر،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

صبح آنکھ کھلتی ہے تو پرندوں کے چہچہانے سے پہلے موبائل کی سکرین پر نگاہ پڑتی ہے، اور دل کی دھڑکنیں معمول سے تیز ہو جاتی ہیں۔ پہلا خیال یہ نہیں آتا کہ آج کام کیا کرنا ہے یا ناشتے میں کیا کھانا ہے، بلکہ یہ خوف ذہن کو جکڑ لیتا ہے کہ کیا سگنل بحال ہیں؟ کیا راستے کھلے ہیں؟ کیا میں دفتر پہنچ پاؤں گا؟ اسلام آباد اور راولپنڈی کے باسیوں کے لیے اب زندگی کا پیمانہ موسم یا گھڑی کی سوئیاں نہیں، بلکہ سڑکوں پر کھڑے زنگ آلود لوہے کے بھاری بھرکم کنٹینر بن چکے ہیں۔ جو جڑواں شہر دنیا بھر میں اپنے پرسکون ماحول، سرسبز پہاڑیوں اور صاف ستھری چوڑی سڑکوں کے باعث پہچانے جاتے تھے، وہ اب آئے روز ایک ایسی کھلی جیل کا منظر پیش کرتے ہیں جس کی سلاخیں لوہے کے دیوہیکل ڈبوں سے تراشی گئی ہیں۔

ہم عام شہری اقتدار کے ایوانوں اور سیاسی میدانوں کے درمیان ایسی چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں جس کا آٹا صرف ہماری بے بسی سے بنتا ہے۔ اسلام آباد میں اقتدار کی بارگاہ ہے اور راولپنڈی اس کا جغرافیائی دل، مگر جب بھی دونوں کے درمیان سیاسی تناؤ ابھرتا ہے تو دارالحکومت کے داخلی راستوں پر پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں۔ فیض آباد کا پُل ہو، آئی جے پی روڈ، مری روڈ یا ترامڑی چوک، ہر بڑا اور چھوٹا راستہ ان بے حس کنٹینروں کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ریاست اور مظاہرین کے درمیان جنگ کا سب سے آسان ہدف وہ عام شہری ہے جو صبح سویرے حلال رزق کمانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔

لوگوں کو لگتا ہے کہ محض سڑکیں بند ہوتی ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ہمارے شہروں میں سانسوں کی روانی بند ہو جاتی ہے۔ راولپنڈی کے گلی کوچوں سے نکل کر اسلام آباد کے دفاتر، کارخانوں اور بینکوں میں جانے والے لاکھوں ملازمین ہر بار ایک ناقابل بیان ذہنی اذیت سے گزرتے ہیں۔ روزگار بچانے کی فکر انسان کو جان جوکھوں میں ڈالنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ موٹر سائیکل سوار فٹ پاتھوں، کچی پگڈنڈیوں اور نالوں کے کناروں سے راستہ تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں ذرا سی لغزش انسان کو اسپتال یا قبرستان پہنچا سکتی ہے۔ گاڑی والے میلوں طویل قطاروں میں پھنسے پٹرول کے ساتھ ساتھ اپنا خون بھی جلاتے ہیں۔ جب گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی راستہ نہیں ملتا اور الٹے پاؤں لوٹنا پڑتا ہے، تو گھر پہنچ کر خالی ہاتھ بچوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رہتی۔ دیہاڑی دار مزدور کا چولہا اس دن ٹھنڈا رہ جاتا ہے، کیونکہ اگر چوک ہی بند ہو تو کام کی تلاش میں کہاں جایا جائے؟

سب سے دلخراش منظر ایمبولینسوں کا ہوتا ہے۔ جب کسی سائرن بجاتی ایمبولینس کو کنٹینر کے سامنے بے بس کھڑے دیکھا جائے تو انسان کا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اس گاڑی کے اندر کوئی بزرگ دل کے دورے سے لڑ رہا ہوتا ہے، کوئی حاملہ خاتون زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتی ہے یا کوئی حادثے کا شکار خون میں لت پت آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے۔ لوہے کے اس بے رحم پہاڑ کو نہ کسی کی بیماری کا احساس ہے اور نہ کسی کی آخری سانسوں کی پروا۔ پمز یا شفا انٹرنیشنل اسپتال تک پہنچنے کے لیے جو راستہ عام دنوں میں پندرہ منٹ کا ہوتا ہے، وہ ان بندشوں میں تین تین گھنٹوں کی اذیت بن جاتا ہے، اور اکثر اوقات مریض راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔ ہم سڑک کنارے کھڑے صرف آنسو بہا سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس لوہے کو پگھلانے کی طاقت نہیں ہے۔

تعلیم کا شعبہ تو جیسے ترجیحات کی فہرست سے ہی خارج ہو چکا ہے۔ اسکول جانے والے ننھے معصوم بچے کتابوں کے بھاری بستے اٹھائے گاڑیوں میں گھنٹوں سہمے بیٹھے رہتے ہیں۔ جامعات کے امتحانات ملتوی ہو جاتے ہیں اور طلبہ کے تعلیمی سال کا ضیاع ایک عام سی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔ اوپر سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی بندش سونے پر سہاگے کا کام کرتی ہے۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں جہاں روزگار کا دارومدار انٹرنیٹ پر ہے، وہاں آن لائن کام کرنے والے ہزاروں نوجوان بین الاقوامی سطح پر اپنا کام اور ساکھ گنوا بیٹھتے ہیں۔ کسی سے رابطہ ممکن نہیں رہتا، بوڑھے والدین گھر بیٹھے بچوں کی خیریت کے لیے تڑپتے ہیں اور دفتر میں بیٹھا شخص گھر والوں کے لیے پریشان رہتا ہے۔
ہم خود سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر ہمارا گناہ کیا ہے؟ کیا ایک پرامن شہری ہونا اور صرف قانون کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنا ہی ہمارا سب سے بڑا جرم ہے؟ جب بھی سیاسی جماعتوں کو اپنی طاقت دکھانی ہوتی ہے یا انتظامیہ کو اپنی رٹ قائم کرنی ہوتی ہے، قربانی کا بکرا ہم بنتے ہیں۔ لوہے کے کنٹینر سڑکوں کو تو
وقتی طور پر روک لیتے ہیں، مگر عوام کے دلوں میں جو غصہ، مایوسی اور بے بسی کی آگ بھڑکاتے ہیں، اسے کوئی کنٹینر قید نہیں کر سکتا۔ کاش اقتدار کے ایوانوں میں براجمان اربابِ اختیار یہ سمجھ سکیں کہ شہر سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں، ان میں بسنے والے انسانوں سے زندہ رہتے ہیں، اور جب ان انسانوں کو بار بار لوہے کی دیواروں میں قید کر دیا جائے تو شہروں کی روح دم توڑنے لگتی ہے۔

More posts