Baaghi TV

کور کمانڈرز کانفرنس، قومی عزم، دفاعی بصیرت اور فولادی حوصلے کی تعبیر،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

hafi masood ahar

پاک فوج اس عزمِ صمیم، غیر متزلزل ایمان اور بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کی روشن علامت ہے جس نے ہر آزمائش میں وطنِ عزیز کے دفاع کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھا۔ ہمارے بہادر سپاہی برف پوش چوٹیوں سے لے کر تپتے صحرائو ں، سرحدوں کی حفاظت سے لے کر دہشت گردی کے خلاف محاذوں تک ہر لمحہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قوم کے امن، آزادی اور وقار کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی جرأت و بہادری، نظم و ضبط، قربانی اور حب الوطنی کی داستانیں تاریخ کے سنہری اوراق پر ہمیشہ روشن رہیں گی۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھا، افواجِ پاکستان فولادی دیوار بن کر اس کے ناپاک عزائم کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ شہدا کا مقدس لہو اس سرزمین کی مٹی میں شامل ہو کر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کی حفاظت ایمان، عزت اور غیرت کا تقاضا ہے۔ قوم اپنے ان عظیم سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی جنہوں نے اپنے آج کو ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ کل پر قربان کر دیا۔ ایک طرف سرحدوں پر وطن کے دفاع کیلئے پاک فوج کے جوان ہمہ وقت مستعد وتیار کھڑے رہتے ہیں تو دوسری طرف پاک فوج کی اعلی قیادت بھی کور کمانڈر کانفرنس میں وقتاََ فوقتاََ سکیورٹی کے حوالے سے ملک کو درپیش حالات ومعاملات کا جائزہ لیتی رہتی ہے ۔
پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، دہشت گردی کے نئے رجحانات، ہائبرڈ جنگ، آبی تنازعات اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت منعقد ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس بھی اسی نوعیت کا ایک اہم قومی اجتماع تھا۔ اس کانفرنس نے دشمنوں کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔

کانفرنس کا آغاز افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے دعائے مغفرت سے کیا گیا۔ یہ لمحہ اس حقیقت کا مظہر تھا کہ پاکستان کی سلامتی کسی ایک دن کی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ ہزاروں شہداء کے مقدس لہو کی امانت ہے۔ انہی قربانیوں نے وطن عزیز کو دہشت گردی کے اندھیروں سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا اور آج بھی یہی قربانیاں قومی وحدت اور دفاع کی مضبوط بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔
کانفرنس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاری اور جنگی استعداد کے اعتبار سے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدید جنگ کے تقاضوں کے مطابق عسکری تیاری، انٹیلی جنس تعاون، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور ہمہ جہت دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
کانفرنس میں دہشت گردی کو پاکستان کے لیے ایک مسلسل خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ یہ بھی باور کرایا گیا کہ پاکستان کے عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں، مربوط حکمت عملی اور قومی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

کانفرنس میں ہائبرڈ وار اور منظم گمراہ کن مہمات کا بھی خصوصی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے اس امر پر زور دیا کہ دشمن اب صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں بلکہ جھوٹی اطلاعات، سوشل میڈیا کے غلط استعمال، نفسیاتی دباؤ اور پراکسی ذرائع کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس پس منظر میں قومی یکجہتی، عوامی شعور، ذمہ دار صحافت اور اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

آبی وسائل کے حوالے سے بھی کانفرنس میں اہم گفتگو ہوئی۔ فورم نے پاکستان کے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی اور قومی مفاد کے مطابق ہر ضروری اقدام کیا جائے گا تاکہ پاکستان کو اس کا حق مل سکے۔ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت، زراعت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، اس لیے اس کے تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیا گیا۔
کانفرنس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی اظہارِ تشویش کیا گیا اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کے پاکستانی مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔ ساتھ ہی علاقائی امن، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو بھی اہم قرار دیا گیا، تاکہ خطے میں دیرپا استحکام کے لیے مثبت ماحول پیدا ہو سکے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اختتامی گفتگو میں کمانڈرز کو ہدایت کی کہ افواج کی جدید خطوط پر تبدیلی کے منصوبے پر تیزی سے عمل جاری رکھا جائے، آپریشنل تیاری کی بلند ترین سطح برقرار رکھی جائے اور پاکستان کی خودمختاری، قومی مفادات اور سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر وقت مکمل آمادگی رکھی جائے۔ یہ ہدایات اس بات کی عکاس ہیں کہ بدلتے ہوئے جنگی ماحول میں صرف ہتھیار نہیں بلکہ وژن، تربیت، ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط بھی کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔

پاکستان کی مسلح افواج نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ سرحدوں کے دفاع سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں سے لے کر امن و استحکام کے قیام تک، افواج نے ہر محاذ پر اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ ہزاروں افسران اور جوانوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لاتعداد اہلکار زخمی ہوئے، بے شمار خاندانوں نے اپنے پیاروں کی جدائی برداشت کی، مگر قومی پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ یہ قربانیاں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ مضبوط افواج اور باشعور قوم ایک دوسرے کی طاقت ہوتی ہیں۔ جب قوم متحد ہو، اداروں پر اعتماد کرے، قانون کی پاسداری کرے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے تو دشمن کے تمام عزائم ناکام ہو جاتے ہیں۔ قومی سلامتی صرف سرحدوں پر تعینات سپاہیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اتحاد، نظم و ضبط، محنت اور حب الوطنی کے ذریعے وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود قومی سلامتی کے بنیادی معاملات پر پوری قوم ایک صفحے پر کھڑی ہو۔ پاکستان کی بقا، استحکام اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب سپاہی سرحد پر جاگتا ہے تو قوم سکون سے سوتی ہے، اور جب قوم اپنے محافظوں کے حوصلے بلند رکھتی ہے تو دفاعِ وطن ناقابلِ تسخیر بن جاتا ہے۔

276ویں کور کمانڈرز کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ کانفرنس صرف عسکری حکمت عملی کا اجلاس نہیں بلکہ قومی عزم، اجتماعی اعتماد اور مستقبل کے لیے واضح سمت کا اظہار بھی تھی۔ پوری قوم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے، اپنے غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وطنِ عزیز کے دفاع، امن، استحکام اور خوشحالی کے سفر میں وہ اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل قوت ہے، یہی ہماری امید ہے اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی۔

More posts