Baaghi TV

کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.

اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.

کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.

جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.

مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.

آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.

دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.

مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.

دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.

یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
پاکستان پائندہ باد

More posts