کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے تین لاپتہ شہریوں کی گمشدگی کے حوالے سے درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کو تفتیشی افسر سے تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس معاملے میں سنجیدہ تفتیش کی جا سکے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ شہریوں کے فراہم کردہ موبائل فونز کی آخری لوکیشن لاڑکانہ سے ملی ہے۔ تاہم، عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ کیا ان افراد کا کسی مخصوص تنظیم سے تعلق ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ ابھی تک ان افراد کی گمشدگی کی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ اور ان تینوں افراد کا آپس میں کیا تعلق ہے؟درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان افراد کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تینوں افراد میں سے ایک شاہجہاں کا بیٹا ہے اور باقی دو اس کے دوست ہیں۔
عدالت نے سوال کیا کہ صرف شاہجہاں نے ہی درخواست کیوں دائر کی؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ شاہجہاں کے رشتہ دار بھی عدالت میں موجود ہیں اور یہ افراد بنوں سے کسی ملاقات کے لیے آئے تھے۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ یہ افراد کراچی نہیں آئے اور ان کی لوکیشن لاڑکانہ کی ہے۔ تاہم، عدالت نے اس بات کا نوٹس لیا کہ تفتیشی افسر نے عدالت میں غلط بیانی کی ہے، کیونکہ ریکارڈ بتا رہا تھا کہ یہ افراد لاڑکانہ ہی گئے تھے۔سماعت کے دوران عدالت نے مزید کہا کہ ممکن ہے یہ کیس ہنی ٹریپ سے متعلق ہو، اور درخواست گزار سے کہا کہ وہ تفتیشی افسر کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس معاملے کی سنجیدگی سے تفتیش کی جا سکے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔
