اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان کے وکیل سلمان صفدر کی ملاقات کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ بدھ کے روز دوپہر دو بجے یہ ملاقات یقینی بنائی جائے۔
یہ کیس عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں سے متعلق ہے، جس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے مؤقف میں کہا کہ کافی عرصے سے ان کی اپنے موکل سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔
عدالت نے اس معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے جیل حکام کو ملاقات کی اجازت دینے کا حکم جاری کیا۔ چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ کس وقت ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جس پر سلمان صفدر نے دوپہر دو بجے کا وقت تجویز کیا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
دوران سماعت یہ بھی بتایا گیا کہ تین ماہ سے زائد عرصے سے نہ تو عمران خان کی اپنے وکلا سے ملاقات کروائی گئی ہے اور نہ ہی ان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔ اس صورتحال پر عدالت نے وکیل کی درخواست کو تسلیم کرتے ہوئے فوری ملاقات کا حکم دیا۔
سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر جلد فیصلہ سنانے کی استدعا بھی کی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جیسے ہی اپیل پر دلائل کا آغاز ہوگا، عدالت سات روز کے اندر فیصلہ سنا دے گی۔
نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی درخواست کی، تاہم عدالت نے مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
عدالت کے اس حکم کو کیس میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ کارروائی میں تیزی آنے کا امکان ہے۔
عدالت کا عمران خان سے وکیل کی ملاقات کا حکم
