راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست کو غیر ضروری اور فضول قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور درخواست گزار پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ جرمانے کی رقم ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کی ڈسپینسری میں جمع کرائی جائے، جہاں اسے غریب مریضوں کے علاج پر خرچ کیا جائے گا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا طریقہ کار پہلے ہی اسلام آباد ہائیکورٹ طے کر چکی ہے، لہٰذا ٹرائل کورٹ اس حوالے سے کوئی متضاد حکم جاری نہیں کر سکتی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں ضمانت پر ہیں اور جوڈیشل تحویل میں نہیں ہیں، اس لیے ملاقات کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔
مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کی درخواستیں پہلے بھی دائر کی جا چکی ہیں اور درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کے بجائے عدالت کا وقت ضائع کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ وکیل فیصل ملک نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کے سلسلے میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے یہ درخواست دائر کی تھی۔
عمران خان سے ملاقات کی درخواست مسترد، درخواست گزار پر جرمانہ
