صحافیوں کے حقوق کے لیے نیویارک سے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے جمعرات کو پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافی سہراب برکت کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا ادارہ آزادانہ طور پر خبریں نشر کرتا رہے۔
سہراب برکت ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ’سیاست ڈاٹ پی کے‘ کے لیے کام کرتے ہیں اور انہیں 26 نومبر 2025 کو اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے اسلام آباد ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کے تحت رپورٹنگ سے متعلق تین الگ الگ شکایات کا سامنا ہے۔
چھ دسمبر 2025 کو لاہور کی مقامی عدالت نے سہراب کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ پاکستان میں سائبر کرائم ایکٹ کے نفاذ کے بعد سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور ڈیجیٹل میڈیا صحافیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
گذشتہ ماہ 18 جنوری کو ان کے ادارے ’سیاست ڈاٹ پی کے‘ نے اعلان کیا کہ وہ اپنا اسلام آباد دفتر بند کر دے گا اور اس فیصلے کو سہراب برکت کی حراست سے جوڑا گیا ہے۔
سہراب برکت کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے, سی پی جے
