بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد برینٹ خام تیل 67 ڈالر فی بیرل اور امریکی خام تیل 63 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اور یورپ میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنائی گئی سخت مالیاتی پالیسیوں نے صنعتی پیداوار سست کر دی ہے، جس سے تیل کی طلب کم ہو گئی۔ اس کے علاوہ، اوپیک پلس کی پیداوار سے متعلق غیر واضح حکمت عملی نے سرمایہ کاروں میں عدم یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
اس مندی کے ترقی پذیر ممالک پر دوہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک جانب پیٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں کمی سے معیشت کو عارضی ریلیف ملے گا، تو دوسری جانب توانائی کے شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری رک جانے کا خطرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معاشی دباؤ برقرار رہا تو اجناس کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے، جو مارکیٹ کے استحکام کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گر گئیں
