Baaghi TV

سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا، 2025 میں دہشت گردی کی تفصیلی رپورٹ جاری

خیبر پختونخوا میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق صوبے کو مسلسل اور بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات کا سامنا رہا، خصوصاً قبائلی اضلاع اور جنوبی علاقوں میں حالات زیادہ سنگین رہے۔

سی ٹی ڈی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں صوبے بھر میں 1,762 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر 707 افراد جان بحق ہوئے، جن میں 159 پولیس اہلکار شامل ہیں، جبکہ 272 افراد زخمی ہوئے۔
دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے 395 شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔ اسی عرصے میں 9 خودکش حملے بھی ریکارڈ کیے گئے، جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بنوں میں دہشتگردی کے 430 واقعات،شمالی وزیرستان میں 213 واقعات،ڈی آئی خان میں 137 واقعات،جنوبی وزیرستان میں111 واقعات پیش آئے،یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ جنوبی اور قبائلی اضلاع بدستور دہشت گردوں کا مرکزی ہدف رہے۔سال 2025 میں دہشت گردوں نے مختلف طریقوں سے حملے کیے،فائرنگ کے واقعات 628 (14 اضلاع میں)پیش آئے،آئی ای ڈی دھماکے 179 ہوئے،ہینڈ گرنیڈ حملے 71 کئے گئے، راکٹ ،میزائل حملے کئے گئے، 80 ڈرون حملے کئے گئے،یہ تنوع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ نت نئے طریقے اپنا رہے ہیں۔

رپورٹ میں دیگر سنگین جرائم کا بھی انکشاف کیا گیا، جن میں 88 اغوا کے واقعات ،149 بھتہ خوری کے کیسز، 117ٹارگٹ کلنگ،151سہولت کاری (Facilitation) کے کیسز،26 دہشت گردی کی مالی معاونت کے کیسز شامل ہیں،سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں خیبر پختونخوا کو ایک مسلسل، منظم اور بدلتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا رہا۔ حملوں کی نوعیت، جغرافیائی پھیلاؤ اور جرائم کی اقسام اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سکیورٹی اداروں کو نہ صرف آپریشنل سطح پر بلکہ انٹیلی جنس اور مالیاتی نگرانی کے شعبوں میں بھی مزید مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔رپورٹ اس امر پر زور دیتی ہے کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے سکیورٹی اداروں، سول انتظامیہ اور عوام کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔

More posts