فرانس میں کیوبا کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے ذریعے عالمی برادری کے رویوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ہمدردی کے اظہار میں دوہرا معیار اختیار کر رہی ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو میں دو مختلف مناظر دکھائے گئے۔ ایک جانب جاپان کے چڑیا گھر میں موجود پنچ نامی ننھا بندر ہے جو ماں سے جدا ہونے کے بعد ایک کھلونے کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے۔ اس ویڈیو نے دنیا بھر میں لوگوں کو جذباتی کر دیا اور سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
ویڈیو کے دوسرے حصے میں غزہ کی ایک کم سن بچی کو دکھایا گیا ہے جو اسرائیلی بمباری میں اپنا گھر تباہ ہونے اور اہل خانہ کو کھونے کے بعد ملبے کے درمیان اپنی گڑیا کو تھامے کھڑی ہے۔ یہ منظر جنگ کے انسانی المیے کی عکاسی کرتا ہے۔
کیوبا کے سفارت خانے نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ دنیا ایک بندر کے کھلونا گلے لگانے پر تو جذباتی ہو جاتی ہے، مگر اسی وقت غزہ میں ہزاروں ایسے بچے موجود ہیں جو جنگ کے باعث یتیم ہو چکے ہیں اور جن کے دکھ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سفارت خانے نے اس رویے کو منتخب ہمدردی قرار دیتے ہوئے اسے شرمناک طرز عمل کہا۔
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے زیر بحث آگئی ہے، جہاں مختلف صارفین اور حلقے اس مؤقف کی حمایت اور مخالفت دونوں کر رہے ہیں۔ بعض افراد نے اسے انسانی المیوں کی جانب توجہ دلانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے سیاسی مؤقف سے جوڑا۔
وائرل ویڈیو اور اس پر آنے والے ردعمل نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ عالمی سطح پر انسانی درد اور سانحات پر ردعمل کیا واقعی یکساں ہوتا ہے یا نہیں۔
ننھے بندر اور غزہ کی بچی کی ویڈیو پر ردعمل، کیوبا کے سفارت خانے کا عالمی دہرے معیار پر سوال
