ایران کے تاریخی اور عالمی ثقافتی ورثے کی علامت گلستان محل کو حالیہ امریکی،اسرائیلی حملوں کے بعد نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد محل کے بعض حصوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محل کا مشہور آئینہ دار تخت ہال اور وہاں موجود نایاب میوزیم نوادرات کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ اقدام جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور جون 2025 میں جاری 12 روزہ جنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا تھا، جس کے باعث قیمتی تاریخی اشیا کو محفوظ والٹ میں رکھا گیا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے ترجمان نے کہا ہے کہ ادارے نے تمام متعلقہ فریقین کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل مقامات اور قومی اہمیت کے حامل تاریخی مقامات کے جغرافیائی محلِ وقوع (کوآرڈینیٹس) فراہم کر دیے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔
گلستان محل ایران کی تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار قاجار دورِ حکومت میں اقتدار کا مرکز بنا، جب دارالحکومت کو تہران منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں پہلوی دور میں بھی یہ محل ریاستی تقریبات اور اہم سرکاری سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے اداروں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران تاریخی اور ثقافتی مقامات کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے تحت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے جائزہ کارروائی جاری ہے۔
