لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران درختوں کی کٹائی کے معاملے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
سماعت جسٹس شاہد کریم نے کی، جنہوں نے پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے اور درختوں کے تحفظ میں غفلت کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔عدالت کے سامنے درختوں کی غیر قانونی کٹائی سے متعلق رپورٹس پیش کی گئیں، جس پر جسٹس شاہد کریم نے ڈی جی پی ایچ اے سے وضاحت طلب کی۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اسموگ کے خاتمے اور ماحولیاتی بہتری کے لیے درختوں کا تحفظ ناگزیر ہے، ایسے میں اگر کسی سرکاری ادارے کے افسران ہی درخت کاٹنے میں ملوث پائے جائیں تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔جسٹس شاہد کریم نے واضح اور سخت لہجے میں کہا کہ درختوں کی کٹائی میں پی ایچ اے کا جو بھی افسر ملوث ہوا، اسے گرفتار کرایا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ سے متعلق عدالتی احکامات کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو ہدایت کی کہ درختوں کی کٹائی سے متعلق مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید برآں عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسموگ کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے تمام سرکاری اداروں کو باہمی تعاون کے ساتھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔سماعت کے اختتام پر عدالت نے اسموگ کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے متعلقہ محکموں سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔
