جنوبی ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 180 ہو گئی ہے، جن میں اکثریت طالبات کی بتائی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق شہری علاقوں پر حملوں کے باعث جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی علاقے مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد سامنے آئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور بڑی تعداد میں طالبات اور عملہ متاثر ہوا۔ امدادی ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک ریسکیو کارروائیاں جاری رکھیں۔
ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ اسی دوران تہران میں واقع گاندھی اسپتال پر بھی میزائل حملے کی اطلاع دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں اور طبی عملے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ اسپتال کی عمارت کو نقصان پہنچا۔
وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو مختلف طبی مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
جنوبی ایران میں اسکول پر حملہ، شہادتیں 180 تک پہنچ گئیں،
