ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ملک کے اندر جوہری پروگرام، خصوصاً ایٹم بم کے حصول سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی زیر بحث آ رہا ہے، جہاں سیکیورٹی خدشات اور دفاعی ضروریات کو لے کر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق تہران میں موجود سخت گیر اور قدامت پسند حلقے اب کھل کر جوہری ہتھیار بنانے کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ گروہ حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ موجودہ جوہری حکمت عملی میں فوری اور بنیادی تبدیلیاں کی جائیں تاکہ بیرونی خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے اندر سخت مؤقف رکھنے والے عناصر کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ یہ حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں فوری فیصلے کیے جائیں اور دفاعی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنایا جائے۔
ایرانی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں اور دباؤ کے پیش نظر ایٹم بم کا حصول ملک کے دفاع کے لیے ایک ضروری قدم بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اس آپشن کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات اور مطالبات عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر سکتے ہیں، کیونکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پہلے ہی خدشات موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ بحث عملی اقدامات کی طرف بڑھتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سیاست اور سیکیورٹی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران میں ایٹم بم کے حصول کی بحث تیز، سخت گیر حلقے متحرک
