حکومتِ پاکستان نے ریاستی پالیسی کے تحت غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کی باعزت، محفوظ اور مرحلہ وار وطن واپسی کے لیے طورخم بارڈر کو عارضی طور پر کھول دیا ہے ۔
اعلامیے کے مطابق واپسی کا عمل 26 مارچ 2026 کو شروع ہوا، جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں بشمول ایف آئی اے، نادرا، کسٹمز اور نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کو مکمل ہم آہنگی اور تیاری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے طورخم، لنڈی کوتل اور گرد و نواح میں سخت حفاظتی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں تاکہ واپسی کے عمل کو ہر قسم کے سیکیورٹی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
حکام کے مطابق صرف رجسٹرڈ مقامات، خصوصاً حمزہ بابا کیمپ کے ذریعے مہاجرین کی منظم انداز میں منتقلی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ابتدائی مرحلے میں نقل و حرکت کو کنٹرولڈ رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بدانتظامی سے بچا جا سکے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی، سرحدی نظم و ضبط اور امیگریشن قوانین کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس میں سکیورٹی فورسز اور سول ادارے مکمل یکجہتی کے ساتھ کردار ادا کر رہے ہیں۔
