Baaghi TV

افغانستان ،بھارت سے دہشتگردی پر مبنی مواد پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی

internet

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان اور بھارت سے دہشت گردی پر مبنی مواد پھیلانے والے درجنوں ایکس (X) اکاؤنٹس کی نشاندہی کر لی ہے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ بھارت سے آپریٹ ہونے والے 19 دہشت گرد ایکس اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ افغانستان سے اسی نوعیت کے 28 اکاؤنٹس سرگرم ہیں۔حکومت نے نشاندہی کی کہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں، جن میں ٹی ایف اے کے/ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور بی ایل ایف شامل ہیں، سوشل میڈیا پر نمایاں موجودگی رکھتی ہیں۔ یہ تنظیمیں امریکا اور برطانیہ سمیت بڑی عالمی طاقتوں کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں، اس کے باوجود سوشل میڈیا کو بھرتی، پروپیگنڈا اور باہمی رابطہ کاری کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے بچوں کے استحصال جیسے مواد کی خودکار شناخت اور حذف کے لیے استعمال ہونے والے الگورتھمز کو سراہا اور زور دیا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دہشت گرد مواد کی شناخت اور حذف کے لیے بھی ایسے ہی خودکار نظام نافذ کریں۔حکام کے مطابق ایکس (X) کی جانب سے تعاون محدود رہا ہے، جبکہ واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹیلی گرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز نے دہشت گرد مواد پھیلانے والے اکاؤنٹس کی نشاندہی میں پاکستان کے ساتھ تعاون شروع کر دیا ہے۔حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بہتر رابطہ اور مقامی حکام کے ساتھ مؤثر تعاون کے لیے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق سوشل میڈیا پر پابندیاں لگانے کا ارادہ نہیں، تاہم دہشت گرد مواد اور اکاؤنٹس کے خلاف بہتر اور بروقت ردِعمل کے لیے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔

وزیرِ داخلہ نے زور دیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹولز تعینات کرنے چاہئیں تاکہ دہشت گرد تنظیموں کی تعریف یا دہشت گرد مواد پھیلانے والے مررڈ (نقل) اکاؤنٹس کو خودکار طور پر شناخت کر کے ہٹایا جا سکے۔

وزیرِ قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان برازیل کی طرز پر قانونی اقدامات پر غور کر سکتا ہے، جہاں ایکس کو غلط معلومات کے نیٹ ورکس سے منسلک رجسٹریشن ڈیٹا فراہم نہ کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔وزیرِ قانون بیرسٹر عقیل ملک نے مزید کہاپاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست ہے اور عالمی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ اس جنگ میں دنیا کو پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا

More posts