امریکا میں ڈیموکریٹک رہنماؤں نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرائم ٹائم خطاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے غیر مربوط قرار دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ اس خطاب میں بنیادی سوالات کے واضح جوابات دینے کی کوشش نہیں کی گئی، جس کے باعث عوام میں مزید ابہام پیدا ہوا ہے۔
سینیٹر مارک وارنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کو چاہیے تھا کہ وہ امریکی عوام کو اس تنازع کے حوالے سے مکمل وضاحت دیتے، خاص طور پر اس کے معاشی اثرات کے بارے میں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ڈیزل، کھاد، ایلومینیم اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات طویل عرصے تک معیشت پر پڑیں گے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب سینیٹر کرس مرفی نے بھی ٹرمپ کے خطاب پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریر ایک ایسی حقیقت پر مبنی تھی جو صرف صدر کے ذہن میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطاب سننے کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکا کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے یا اسے مزید بڑھا رہا ہے۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں کے مطابق حکومت کو اس حساس معاملے پر واضح پالیسی اور حکمت عملی پیش کرنی چاہیے تاکہ عوام کو درست صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
ٹرمپ کے خطاب پر ڈیموکریٹس کی شدید تنقید
