عدالت نے ایمان مزاری کی ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی
ایمان مزاری کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطورِ پراسیکیوشن گواہ طلب کرنے کی کوشش خالصتاً ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد عدالت کے فورم کو انصاف کے تقاضوں کے بجائے ادارہ جاتی تنازع اور میڈیا بیانیے میں بدلنا تھا۔ قانون اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ملزم کو پراسیکیوشن کے گواہوں کے تعین کا کوئی اختیار حاصل نہیں، اس کے باوجود ایک اعلیٰ آئینی عہدے کو بلاجواز گھسیٹنا عدالتی عمل کی سنگینی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
عدالت کے سامنے ایمان مزاری اور ان کے معاونین اس بنیادی سوال کا کوئی قانونی جواب پیش نہ کر سکے کہ وہ کس شق کے تحت ڈی جی آئی ایس پی آر کو پراسیکیوشن گواہ بنوانا چاہتے ہیں۔ یہ خاموشی خود اس درخواست کے کھوکھلے پن کا ثبوت بن گئی۔ جج نے واضح اور غیر مبہم انداز میں یہ اصول دہرایا کہ عدالتیں افراد یا عہدوں سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ صرف قانونی نکات اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ محض کسی ادارے یا عہدے کا نام لے لینا اسے مقدمے کا لازمی فریق نہیں بنا دیتا۔قانون اس حوالے سے بالکل دو ٹوک ہے کہ پراسیکیوشن کے گواہوں کا تعین ریاست کا اختیار ہوتا ہے، نہ کہ ملزم کا۔ ایمان مزاری اس بنیادی نکتے کو ثابت کرنے میں ناکام رہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا اس مقدمے یا ان مبینہ ٹوئٹس اور بیانات سے کوئی براہِ راست تعلق ہے جن کی بنیاد پر کیس قائم کیا گیا۔ محض کسی اعلیٰ آئینی عہدے کا نام شامل کر دینا کسی بھی درخواست کو قانونی وزن فراہم نہیں کرتا، اور یہی نکتہ اس کیس میں سب سے نمایاں ہو کر سامنے آیا۔
