Baaghi TV

ایران کے حملوں سے خلیجی خطے میں ڈیجیٹل بحران ،ایمازون کے ڈیٹا سینٹرز شدید متاثر

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی نے اب عالمی ٹیکنالوجی کے شعبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں ایران کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایمازون کی کلاؤڈ سروس، ایمازون ویب سروس، کے بحرین اور دبئی میں موجود اہم ڈیٹا سینٹرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان حملوں کے باعث دونوں مقامات پر موجودا یمازون ویب سروس کے “ایویلیبیلٹی زونز” (Availability Zones) میں سے کچھ مکمل طور پر بند ("ہارڈ ڈاؤن”) ہو چکے ہیں جبکہ دیگر جزوی طور پر متاثر ہونے کے باوجود محدود پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔ اندرونی کمپنی مراسلے کے مطابق ان سروسز کی بحالی میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ایمازون ویب سروس کے اندرونی پیغام میں ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ بحرین اور دبئی کے متاثرہ ریجنز کو فی الحال کم ترجیح دی جائے۔ مراسلے میں کہا گیا "یہ دونوں ریجنز اب بھی متاثر ہیں، اور سروسز سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ معمول کی کارکردگی اور استحکام کے ساتھ چلیں گی۔”مزید بتایا گیا کہ کمپنی متاثرہ صارفین کو دیگر محفوظ ریجنز میں منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، اور سسٹمز کو کم سے کم وسائل پر چلانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ صارفین کی منتقلی میں آسانی ہو۔

اطلاعات کے مطابق بحرین میں ایمازون ویب سروس کے ڈیٹا سینٹرز پر متعدد بار حملے کیے گئے، جن میں ایک حملہ بدھ کے روز ہوا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی میں بھی ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ایمازون ویب سروس کے ہر ریجن میں عام طور پر تین ایویلیبیلٹی زونز ہوتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں بعض مکمل طور پر بند جبکہ دیگر جزوی طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے مزید امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں سامنے آئی ہیں، جن میں گوگل،مائیکروسافٹ اور ایپل شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ایمازن کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی متاثرہ صارفین کو دیگر ایمازون ویب سروس ریجنز میں منتقل کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے، اور بڑی تعداد میں صارفین پہلے ہی کامیابی سے اپنی ایپلی کیشنز کو منتقل کر چکے ہیں۔”ہم مسلسل متاثرہ صارفین کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں متبادل ریجنز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔”

یہ واضح نہیں کہ بحرین اور دبئی کے ڈیٹا سینٹرز کب مکمل طور پر بحال ہو سکیں گے، جس سے خطے میں ڈیجیٹل سروسز اور آن لائن کاروباروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

More posts