Baaghi TV

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی تصدیق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو "وسیع اور جاری آپریشن” قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ایران میں باقاعدہ عسکری مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، جبکہ تہران میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

صدر ٹرمپ ہفتے کے اختتام پر فلوریڈا کے شہر پام بیچ میں واقع اپنے نجی کلب Mar-a-Lago میں قیام پذیر ہیں۔ ان کے سرکاری شیڈول کے مطابق وہ اپنے حامی سپر پی اے سی MAGA Inc. کے اجلاس اور عشائیے میں بھی شریک ہوئے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا “امریکی فوج ایک بڑے اور جاری آپریشن میں مصروف ہے تاکہ اس ظالم اور شدت پسند آمریت کو امریکا اور ہمارے بنیادی قومی مفادات کے لیے خطرہ بننے سے روکا جا سکے۔ ہم ان کے میزائل نظام اور میزائل انڈسٹری کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔”انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جون میں امریکی بمباری کے بعد اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کو سفارتی مواقع فراہم کیے گئے لیکن وہ جوہری عزائم سے پیچھے نہیں ہٹا۔

تہران میں دھماکے، خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب میزائل حملے
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے پاستور ضلع میں، جہاں سپریم لیڈر کی رہائش گاہ اور دفتر واقع ہے، متعدد دھماکے سنے گئے۔نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم از کم سات میزائل اس علاقے میں گرے۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دارالحکومت کے مختلف حصوں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران “انتقام اور صہیونی ریاست کو کچل دینے والے جواب” کی تیاری کر رہا ہے۔یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مناسب وقت پر بھرپور جواب دیں گے۔امریکی حکام کے مطابق موجودہ حملے ایران کے فوجی اہداف پر مرکوز ہیں اور ان کا مقصد امریکی افواج اور مفادات کا تحفظ ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ “کوئی چھوٹا حملہ نہیں” بلکہ منظم اور وسیع پیمانے کی کارروائی ہے۔

یاد رہے کہ جون 2025 میں بھی صدر ٹرمپ نے ایران کے تین جوہری مراکز پر فضائی حملے کا حکم دیا تھا، جو تقریباً نصف صدی بعد ایرانی سرزمین پر پہلا براہ راست امریکی حملہ تھا۔حالیہ پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی، خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اسرائیل کے لیے سنگین سکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے۔

More posts