امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران سی این این کی نمائندہ صحافی کیٹلن کولنز پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’بدترین رپورٹر‘‘ قرار دے دیا اور سی این این کو ’’بے ایمان ادارہ‘‘ کہا۔
پریس کانفرنس کے دوران کیٹلن کولنز نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز میں اہم معلومات کو کیوں چھپایا گیا، اور یہ کہ ایپسٹین کے متاثرین اس عمل پر شدید ناخوش ہیں۔ انہوں نے صدر سے پوچھا کہ وہ ان متاثرین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے جو خود کو انصاف سے محروم سمجھتے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا،”میں تمہیں دس سال سے جانتا ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کبھی تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی ہو۔ تم جانتی ہو تم کیوں نہیں مسکراتیں؟ کیونکہ تم سچ نہیں بول رہیں۔ تم ایک انتہائی بے ایمان ادارے کی نمائندگی کرتی ہو، اور سی این این کو اس پر شرم آنی چاہیے۔”صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کسی اور معاملے پر توجہ دے کیونکہ "میرے خلاف کچھ بھی سامنے نہیں آیا”۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر جب صحافیوں کو اوول آفس سے باہر لے جایا جا رہا تھا، تب بھی صدر ٹرمپ کو کیٹلن کولنز کے بارے میں شکایت کرتے سنا گیا کہ وہ "کبھی مسکراتی نہیں”، جبکہ وہ اشاروں سے دیگر صحافیوں کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کیٹلن کولنز کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی انہیں نشانہ بناتے ہوئے لکھ چکے ہیں "فیک نیوز سی این این کی کیٹلن کولنز ہمیشہ بیوقوف اور بدتمیز رہتی ہے۔”صدر ٹرمپ ماضی میں بھی خواتین صحافیوں پر سخت اور توہین آمیز جملے کسنے پر تنقید کی زد میں آتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے ایک صحافی کو سوال کرنے سے روکنے کے لیے کہا تھا، "خاموش! خاموش، اسی طرح نومبر میں فلوریڈا میں افغان پناہ گزینوں کی جانچ پڑتال سے متعلق سوال پر ایک رپورٹر کو ڈانٹتے ہوئے کہا، "کیا تم بیوقوف ہو؟ کیا تم واقعی بیوقوف انسان ہو؟”
اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ پر بھی غصے کا اظہار کیا تھا جس میں ان کی عمر اور تھکن کی علامات پر بات کی گئی تھی، اور رپورٹ کی خاتون مصنفہ کو "بدصورت” قرار دیا تھا۔
کیٹلن کولنز ایک معروف امریکی صحافی اور اینکر ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز انٹرٹینمنٹ رپورٹنگ سے کیا، بعد ازاں 2016 میں دی ڈیلی کالر کے لیے وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹ بنیں۔ ایک سال بعد انہوں نے سی این این جوائن کیا اور بعد میں اینکرنگ کے فرائض بھی انجام دیتی رہیں۔
سی این این نے اپنے ردعمل میں کیٹلن کولنز کو "ایک غیر معمولی صحافی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ "گہرائی، جرات اور مستقل مزاجی کے ساتھ رپورٹنگ کرتی ہیں”۔صحافتی حلقوں میں اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر دیگر صحافیوں کو بھی پیشہ ورانہ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتھی صحافی کے دفاع میں آواز اٹھانی چاہیے۔
