Baaghi TV

آبنائے ہرمز کی بندش،برطانیہ اپنا تیل خود حاصل کرے،ٹرمپ

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی برطانیہ پر ناراضی ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے، جہاں انہوں نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں تعاون نہ کرنے پر سخت بیانات دیے ہیں۔

امریکی صدر نے ماضی میں بھی برطانیہ کے مؤقف پر ناپسندیدگی ظاہر کی تھی، خاص طور پر اس وقت جب جنگ کے آغاز پر برطانیہ نے امریکہ کو ڈیگو گارشیا بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ یہ اڈہ بحرِ ہند میں واقع ایک اہم مشترکہ فوجی تنصیب ہے۔گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایک بار پھر برطانوی پالیسی کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارمر نے “بڑی غلطی” کی اور برطانوی جنگی جہازوں کو “کھلونے” قرار دیا۔ٹرمپ نے اس سے قبل بھی برطانیہ کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی میں حصہ نہ لینے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹارمر “ونسٹن چرچل جیسے رہنما نہیں ہیں”۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم کے فیصلے سے “بہت مایوس” ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ابتدائی حملوں میں امریکہ کو برطانوی فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا حوالہ دیتے ہوئے حالیہ بیان میں برطانیہ کو طنزیہ مشورہ دیا کہ وہ اپنا تیل خود حاصل کرے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا “جو ممالک آبنائے ہرمز کی صورتحال کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر پارہے، جیسے برطانیہ، انہیں چاہیے کہ یا تو امریکہ سے خریدیں یا خود جا کر حاصل کریں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “امریکہ ہمیشہ مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، جیسے آپ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔”

بعد ازاں برطانوی حکومت نے وضاحت کی کہ اس نے صرف “دفاعی نوعیت” کی امریکی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کے معاملے پر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اختلافات مغربی اتحاد میں دراڑ کی نشاندہی کر رہے ہیں، جو مستقبل کی عالمی سفارتکاری پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

More posts