لخت جگر دے دینا کوئی کم تھوڑی ہے جس کے ساتھ جہیز دینا اہم قرار دے دیا گیا ہے۔انسان کی قیمت تو ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے پھر بھی انسان کو چیزوں کے ترازو میں تولنا کہاں کا انصاف ہے۔لڑکی والے تو نہیں کہہ سکتے لیکن لڑکے والے تو آگے بڑھ کر دل بڑا کر ہی سکتے ہیں کے انھیں جہیز نہیں چاہیے ہے۔ان کے گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہوتے ہوئے بھی کیسے فخر سے سب لے جاتے ہیں۔کاش یہ سوچیں کچھ بدلیں ایک دفعہ خود کو اس بات پر رکھ کر سوچیں کہ اگر بہو گھر لے جانے کے بجائے انھیں اپنے بیٹوں کو گھر سے رخصت کرنا پڑے اور صرف بیٹا نہیں بلکہ اس کے ساتھ سود کے طور پر جہیز بھی دینا پڑے اور پھر ساس سسر کی خدمت اور سالیوں اور سالوں کی باتیں بھی سننی پڑیں۔بچے ہونے کے بعد وہ بھی سنبھالیں پڑیں گھر کے کام بھی جدوجہد سے کرنے پڑ جائیں تو یہ سب وہ کر سکیں گے؟ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ انتہائی ناقابل قبول حقیقت ہے۔ایک بہو،ایک بیوی ایک بھابھی یہ سب کچھ کرتی ہے لیکن پھر بھی اسے عزت نہیں ملتی کیوں؟ کیا وہ عزت کی حق دار نہیں ہے؟
ہمارے معاشرے کا الگ ہی المیہ ہے اپنی بیٹی کو اپنی بیٹی ہی سمجھتے رہتے ہیں جس نے کل کو کسی اور کے گھر کی زینت بننا ہوتا ہے اور جو ان کے گھر آتی ہے اسے کبھی بیٹی کا درجہ نہیں دیتے۔حالانکہ کے قابل غور تو یہ حقیقت ہے کے اصل بیٹی تو بہو ہی ہوتی ہے اسے بیٹی کا مقام دیں بیٹی کی طرح رکھیں اور بہو کو بھی چاہیے وہ بیٹی بننے کی کوشش کرے کچھ سمجھوتے تو سب کو کرنے پڑتے ہیں۔
جہیز کی بنیاد پر رشتوں کی تعمیر مت کریں جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے لڑکوں کو انکار کی صورت میں پہل کرنی چاہیے تاکہ اس کا ہمارے معاشرے سے خاتمہ ہو سکے۔
