آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی ادویات کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹروکیمیکل خام مال، جو ادویات کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر سپلائی میں تعطل برقرار رہا تو آئندہ 4 سے 6 ہفتوں میں ضروری ادویات کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
خصوصاً وہ ممالک جو ادویات کی برآمد میں نمایاں کردار رکھتے ہیں، اس بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے عالمی صحت کے نظام پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع ہے، جس نے اس اہم سمندری گزرگاہ کو خطرناک بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں، بارودی سرنگوں اور ڈرون خطرات کے باعث بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی شپنگ کمپنیوں نے اس راستے سے گزرنے سے گریز کیا ہے۔
اس کے علاوہ جنگی صورتحال کے باعث خلیج میں امریکی اور اتحادی افواج کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عسکری تناؤ مزید بڑھ گیا ہے اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، تاہم موجودہ حالات میں صرف تیل ہی نہیں بلکہ کھاد، پیٹروکیمیکل مواد اور دیگر اہم اشیاء کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
ادویات کی قلت کا خدشہ، آبنائے ہرمز بحران کے اثرات گہرے ہونے لگے
