Baaghi TV

ہینٹا وائرس، ڈچ فضائی میزبان کا ٹیسٹ منفی آگیا، عالمی ادارۂ صحت کی تصدیق

عالمی ادارۂ صحت نے تصدیق کی ہے کہ نیدرلینڈز کی قومی ایئرلائن کی ایک ڈچ فضائی میزبان، جسے ہینٹا وائرس کے ممکنہ خطرے کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا، اس کا ٹیسٹ منفی آگیا ہے۔ خاتون فضائی میزبان ایک ایسی 69 سالہ ڈچ خاتون کے قریبی رابطے میں رہی تھیں جو 26 اپریل کو جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں ہینٹا وائرس کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ فضائی میزبان میں ہلکی علامات ظاہر ہوئی تھیں جس کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر انہیں ایمسٹرڈیم کے اسپتال میں داخل کیا گیا۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کی تازہ رپورٹ کے مطابق ان میں وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی، جس سے فوری خطرات میں کمی آئی ہے۔

یہ واقعہ اس بڑے عالمی طبی بحران کا حصہ ہے جو کروز شپ سے جڑا ہوا ہے۔ یہ بحری جہاز یکم اپریل کو جنوبی ارجنٹینا سے روانہ ہوا تھا اور اس میں 149 افراد سوار تھے جن میں 23 برطانوی شہری بھی شامل تھے۔ جہاز کے سفر کے دوران متعدد افراد میں ہینٹا وائرس کی علامات سامنے آئیں جبکہ اب تک تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہیں۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اب تک اس وبا سے منسلک پانچ تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ مزید تین مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔ کم از کم چھ افراد مختلف ممالک کے اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ متاثرہ افراد کو نیدرلینڈز، جرمنی، جنوبی افریقا اور سوئٹزرلینڈ منتقل کیا گیا ہے۔

برطانوی حکام نے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق ایک نئے برطانوی شہری میں بھی ہینٹا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آیا ہے۔ یہ شخص جنوبی بحرِ اوقیانوس کے جزیرے پر موجود تھا جہاں کروز شپ نے گزشتہ ماہ مختصر قیام کیا تھا۔حکام کے مطابق جہاز پر موجود تمام برطانوی مسافروں اور عملے کو برطانیہ واپسی کے بعد 45 روز تک آئسولیشن میں رہنے کی ہدایت کی جائے گی۔ برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کینری آئی لینڈز پہنچنے پر مسافروں کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کے تحت وطن واپسی کی پرواز کا انتظام کیا جائے گا، جس میں متعدی امراض کے ماہرین بھی موجود ہوں گے۔

طبی ماہرین کے مطابق ہینٹا وائرس عام طور پر چوہوں اور دیگر جنگلی چوہا نما جانوروں کے فضلے، پیشاب یا لعاب سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ بعض اقسام میں انسان سے انسان میں منتقلی بھی ممکن سمجھی جاتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے عالمی وبا بننے کے امکانات بہت کم ہیں۔امریکا کے معروف ماہر صحت اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر لیری گوسٹن نے خبردار کیا ہے کہ ہینٹا وائرس “کووڈ سے زیادہ جان لیوا” ہوسکتا ہے، لیکن اس کی منتقلی کی رفتار انتہائی محدود ہے۔ ان کے مطابق کروز شپ جیسی بند اور گنجان جگہیں وائرس کے پھیلاؤ کے لیے خطرناک ماحول فراہم کرتی ہیں۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف باتھ کے سائنسدانوں نے ہینٹا وائرس کے خلاف ایک “انتہائی امید افزا” ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر ایسل سارتبائیوا کے مطابق ابتدائی لیبارٹری تجربات میں ویکسین نے مثبت نتائج دیے ہیں، تاہم انسانی آزمائشوں کے بعد ہی اس کی افادیت اور حفاظت کی مکمل تصدیق ہوسکے گی۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ویکسین عام عوام تک پہنچنے میں مزید تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ادھر نیدرلینڈز کے ادارۂ صحت نے بتایا ہے کہ وائرس سے متاثرہ شخص کے ساتھ فضائی سفر کرنے والے تین افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے دو کے نتائج منفی آئے ہیں جبکہ تیسرے شخص کی رپورٹ کا انتظار ہے۔عالمی ادارے مسلسل اس صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ مختلف ممالک نے متاثرہ افراد کے رابطوں کی ٹریسنگ، آئسولیشن اور طبی نگرانی کے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

بحری جہاز ’ایم وی ہونڈیوس‘ پر پھیلنے والے مہلک وائرس ہنٹا کی تحقیقات کے دوران ایک ڈچ میاں بیوی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، دونوں کئی ماہ تک ارجنٹینا، چلی اور یوراگوئے میں سفر کرنے کے بعد یکم اپریل کو ارجنٹینا کے شہر اوشوائیا سے جہاز پر سوار ہوئے تھے،بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بحری جہاز پر موجود جوڑے میں پہلے شوہر بیمار ہوا اور 11 اپریل کو جہاز پر ہی دم توڑ گیا جبکہ اہلیہ کو جزیرہ سینٹ ہیلینا سے جنوبی افریقا منتقل کیا گیا جہاں وہ بھی جانبر نہ ہو سکی،ایک جرمن مسافر کی ہلاکت بھی اسی وائرس سے جوڑی گئی ہے جبکہ متعدد مسافروں اور عملے کے ارکان کا علاج جاری ہے

More posts