Baaghi TV

الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کے کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کی،

جس میں سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ کو جو نوٹس جاری ہوا وہ تحصیل حویلیاں، ضلع ایبٹ آباد کا تھا جو این اے 18 میں شامل نہیں، جبکہ الیکشن ہری پور میں تھا، وکیل کے مطابق ڈی ایم او کے نوٹس میں ڈسٹرکٹ ایبٹ آباد درج ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں ڈسٹرکٹ ہری پور لکھا گیا جو واضح تضاد ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مقام حویلیاں تھا ہری پور نہیں، علی بخاری نے کہا کہ اگر غلطی سے غلط ضلع لکھا گیا ہے تو نوٹس واپس لیا جائے، نوٹس میں تحصیل حویلیاں درج ہے اور ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ شامل نہیں، وزیر اعلیٰ کو ہری پور جانا منع تھا اور وہ وہاں نہیں گئے، اگر ہری پور سمجھ کر بلایا گیا ہے تو یہ غلط بنیاد پر بلایا گیا،

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ قانون کے مطابق بدمزگی یا نتائج میں مداخلت کرپٹ پریکٹس کے زمرے میں آتی ہے، نوٹس کے ساتھ منسلک کاپی میں واضح طور پر درج ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کہا اگر نتائج میں تبدیلی یا بدمزگی کی گئی، علی بخاری نے کہا کہ ڈی ایم او مجھے بلا کر پچاس ہزار روپے جرمانہ کر سکتا تھا مگر جب کمیشن نے بلایا تو ڈی ایم او کے پاس معاملہ التوا ہو گیا، ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی معاملے پر دو کیسز اور دو سزائیں نہیں دی جا سکتیں، مزید یہ کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن خود شکایت کنندہ ہیں اور کیس بھی الیکشن کمیشن ہی سن رہا ہے جو خود شکایت اور خود ہی انصاف کے مترادف ہے،

چیف الیکشن کمشنر نے سوال اٹھایا کہ اگر خلاف ورزی ہوتی رہے اور چیف منسٹر دھمکی دیتا رہے تو کیا الیکشن کمیشن آنکھ بند کر کے بیٹھا رہے، جس پر علی بخاری نے جواب دیا کہ جب آپ خود شکایت کنندہ ہیں تو کیس خود کیسے سن رہے ہیں، وکیل نے مزید کہا کہ ڈی ایم او نے نوٹس دیا تھا تو پہلے وہ فیصلہ کرتا، بعد ازاں معاملہ اپیل میں الیکشن کمیشن آنا چاہیے تھا، ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس نااہلی کا اختیار نہیں اور سہیل آفریدی نہ ضلع، نہ حلقے، نہ پولنگ اسٹیشن میں گیا اور نہ ہی اس نے کوئی غیر آئینی الفاظ ادا کیے،

More posts