Baaghi TV

ایلون مسک کا چاند پر اے آئی سیٹلائٹ فیکٹری قائم کرنے کا منصوبہ

elon

‎دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل اور ٹیسلا، اسپیس ایکس سمیت متعدد کمپنیوں کے مالک ایلون مسک چاند پر مصنوعی ذہانت سے متعلق سیٹلائٹ فیکٹری قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
‎نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنی اے آئی کمپنی ایکس اے آئی کے ملازمین سے ملاقات کے دوران اس منصوبے کا ذکر کیا۔ بتایا گیا ہے کہ مسک چاند پر ایسی تنصیب چاہتے ہیں جہاں سیٹلائٹس تیار کیے جائیں اور انہیں خلا میں بھیجنے کے لیے ایک بڑی غلیل نما ڈیوائس استعمال کی جائے، جو لانچنگ کے عمل کو تیز اور کم خرچ بنا سکے۔
‎ایکس اے آئی کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
‎یہ پہلا موقع نہیں جب ایلون مسک نے خلا میں صنعتی تنصیبات کے قیام کی بات کی ہو۔ چند روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی بڑے ڈیٹا سینٹرز کی مرہون منت ہے، جنہیں بھاری مقدار میں بجلی اور جدید کولنگ سسٹمز درکار ہوتے ہیں۔ ان کے بقول زمین پر توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر طویل مدت میں اے آئی مراکز کو خلا میں منتقل کرنا ناگزیر ہو سکتا ہے۔
‎ایک پوڈ کاسٹ گفتگو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ 36 ماہ یا اس سے بھی پہلے اے آئی انفرااسٹرکچر کو خلا میں منتقل کرنے کی پیش رفت دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
‎مبصرین کے مطابق اگر چاند پر فیکٹری کے قیام کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو مستقبل میں وہاں انسانی موجودگی بڑھانے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ ایلون مسک طویل عرصے سے یہ مؤقف دہراتے آئے ہیں کہ انسانیت کے مستقبل کے تحفظ کے لیے زمین سے باہر مستقل بستیوں کا قیام ضروری ہے، خاص طور پر مریخ پر انسانی شہر بسانا ان کے طویل المدتی وژن کا حصہ ہے۔

More posts