بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے مبینہ طور پر جنس اور مذہب کی تبدیلی، عصمت دری، جبری تبدیلیٔ مذہب اور سیکس ریکیٹ چلانے کے الزامات میں دو بہنوں اور ان کے ایک ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کیس میں نامزد مزید تین ملزمان تاحال مفرور بتائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے مقدمے کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں بہنیں پہلے عباس نگر کی ایک کچی آبادی میں مقیم تھیں، تاہم حال ہی میں مبینہ طور پر جنس تبدیل کروانے کے بعد مردانہ شناخت اختیار کر کے ایک عالیشان مکان میں منتقل ہو گئی تھیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان کی جائیدادیں اور پرتعیش طرزِ زندگی ممکنہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدن کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید مالی چھان بین جاری ہے۔کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب دو خواتین، جن کی عمریں 21 اور 32 سال بتائی جاتی ہیں، نے بھوپال کے علاقے باغ سیونیا تھانے میں الگ الگ مگر ملتے جلتے بیانات کے ساتھ مقدمات درج کروائے۔ متاثرہ خواتین کا تعلق کم آمدنی والے طبقے سے بتایا جاتا ہے۔
مدعی خواتین کے مطابق انہیں گھریلو ملازمت، ماہانہ 10 ہزار بھارتی روپے تنخواہ، رہائش اور بہتر طرزِ زندگی کا جھانسہ دے کر رابطہ کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق بعد ازاں انہیں مختلف پارٹیوں، کلبز اور لاؤنجز میں لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر نشہ آور اشیاء پلائی گئیں اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ایک متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ دسمبر 2025ء میں اسی گروہ کے ایک کارندے نے اسے ریاست گجرات کے شہر احمد آباد لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ اسے دھمکیاں دے کر خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔دوسری متاثرہ خاتون، جو گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی، نے الزام لگایا کہ چندن یادیو نامی شخص نے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ درج مقدمے میں جبری تبدیلیٔ مذہب کا الزام بھی شامل کیا گیا ہے، جس کی الگ سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتاری کے دوران ملزمان کے موبائل فونز قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔ ابتدائی ڈیجیٹل فرانزک جائزے میں مشتبہ واٹس ایپ گروپس اور متعدد لڑکیوں کی تصاویر برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کی مکمل جانچ کے بعد مزید انکشافات متوقع ہیں۔بھوپال پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ایک منظم بین الریاستی نیٹ ورک ہو سکتا ہے جس کے روابط گجرات اور ممبئی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پولیس مختلف ریاستوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں ہے اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور متاثرہ خواتین کو قانونی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ مزید گرفتاریوں اور انکشافات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
