اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس کی سماعت کے دوران ایک جذباتی اور مثبت پیش رفت سامنے آئی، جہاں عدالت کی کوششوں سے میاں بیوی نے دوبارہ ساتھ رہنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے کی، جنہوں نے دونوں فریقین کو مصالحت پر آمادہ کیا۔ بعد ازاں میاں بیوی نے عدالتی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے شوہر کو ہدایت دی کہ وہ اپنی اہلیہ کو تاحیات الگ پورشن فراہم کرے گا۔
سماعت کے دوران چاروں بچوں کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کی والدین سے ملاقات کرائی گئی۔ جسٹس کیانی نے بچوں کو روسٹرم پر بلا کر ان سے گفتگو کی۔ بچوں نے آبدیدہ ہو کر اپنی والدہ سے گھر واپس آنے کی درخواست کی، جس پر عدالت کا ماحول جذباتی ہوگیا۔ جج نے بچوں کو تحائف بھی دیے اور ریمارکس دیے کہ “بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا، بچے پراپرٹی نہیں ہوتے۔”
جسٹس کیانی نے ازدواجی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عورت اپنا گھر چھوڑ کر نئے گھر آتی ہے، اس لیے اسے محبت اور احترام ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر گھریلو تنازعات میں خاندانوں کی مداخلت مسائل کو بڑھا دیتی ہے اور معاشرے میں تربیت کی کمی بھی نمایاں ہے۔
دورانِ سماعت ایک شخص کو موبائل فون سے ویڈیو بناتے ہوئے پکڑا گیا۔ عدالت کے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ کارروائی سے متاثر ہو کر اسے گھر والوں کو دکھانا چاہتا تھا۔ عدالت نے ضابطۂ کار کی خلاف ورزی پر اس کا موبائل فون ضبط کر لیا۔
عدالت کی جانب سے کیس کا تحریری حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا، جبکہ کیس کی پیروی سمعیہ قمر راجہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا نے کی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس خوشگوار انجام تک پہنچ گیا
