بھارت میں کسان برادری مجوزہ بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف شدید احتجاج کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ مختلف کسان تنظیموں نے اس معاہدے کو زرعی شعبے کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق مودی حکومت کے دعوے حقیقت کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں اور اس ڈیل کے ممکنہ اثرات نے کسانوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
بھارت کے معروف اخبار دی ٹائمز آف انڈیا نے بھی اپنی رپورٹ میں اس مجوزہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے اسے زرعی شعبے کے لیے چیلنج قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق کسان برادری میں اس ڈیل کو غیر منصفانہ اور یک طرفہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے باعث غم و غصہ بڑھ رہا ہے،کسان یونینز کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے بھارتی زراعت پر مزید دباؤ بڑھے گا اور مقامی کسان عالمی مسابقت کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہوں گے۔ تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کو کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے اور ایسے کسی بھی معاہدے سے گریز کرنا چاہیے جو مقامی پیداوار اور ڈیری سیکٹر کے لیے نقصان دہ ہو۔
کسان یونینز نے تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی وزیر تجارت کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ شرائط پر امریکا اور بھارت کے درمیان معاہدہ طے پایا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
عالمی ماہرین کے مطابق اگر یہ تجارتی ڈیل موجودہ نکات کے تحت مکمل ہوتی ہے تو بھارتی کسانوں اور ڈیری کے شعبے کو نمایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ میں کیے گئے فیصلے حکومت کی خارجہ پالیسی اور داخلی انتظامی صلاحیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں،سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خارجہ محاذ پر چیلنجز اور اندرونی انتظامی مسائل حکومت کے لیے مسلسل دباؤ کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ کسانوں کا ردعمل آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامے کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
