امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے مشیر جنگ ختم کرنے کا مشورہ دینے لگے۔
امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں نے مشورہ دیا ہے کہ فتح کا اعلان کریں اور جنگ سے نکل جائیں۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں ایران جنگ کے حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طویل جنگ مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن غیر فعال ہونے کی تردید کردی۔سینٹ کام سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب بحری بیڑے کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں، اس سے پہلے بھی وہ اس جہاز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں، یہ دعویٰ غلط ہے۔سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ اب بھی ایران کے خلاف فعال ہے۔ سینٹ کام نے بحری جہاز پر طیاروں کی آمد و رفت کی ویڈیو بھی جاری کردی۔
علاوہ ازیں یورپ کو تیل اور گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے، فرانس اور اٹلی نے آبنائے ہرمز سے محفوظ راستے کے حصول کیلئے ایران سے مذاکرات شروع کردیے۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملک مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس درآمد کرنا چاہتے ہیں اور اپنے ٹینکرز کو بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزارنے کیلئے ایران سے بات چیت کررہے ہیں۔
خلیجی ممالک کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک توانائی کی آمدنی میں تقریباً 15.1 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ہرمز آبنائے کی تقریباً مکمل بندش کی وجہ سے لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچنے سے محروم ہو گئے ہیں، جس سے روزانہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر مالیت کی تیل، ریفائنڈ پروڈکٹس اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور اسے تقریباً 4.5 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا ہے، جبکہ عراق جیسے ممالک میں جہاں حکومتی آمدنی کا 90 فیصد تیل پر منحصر ہے، معاشی دباؤ شدید ہے۔یہ اعداد و شمار تجزیاتی فرموں Wood Mackenzie اور Kpler کی تحقیق پر مبنی ہیں، جو بتاتے ہیں کہ خلیجی ممالک (سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین) کو مجموعی طور پر تیل کی فروخت اور ٹیکس آمدنی میں 13.3 ارب ڈالر کا تاخیر سے ادائیگی کا سامنا ہے۔ سعودی عرب بحر احمر کے راستے برآمدات بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جبکہ دیگر ممالک جیسے قطر اور کویت اپنے sovereign wealth funds سے مختصر مدت کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جنگ خلیجی ریاستوں کے لیے معاشی طور پر انتہائی مہنگی ثابت ہو رہی ہے، جو توانائی کی برآمدات پر انحصار کر کے اپنی حکومتیں چلاتی ہیں۔
