تھر کوئلے سے یوریا کھاد بنانے کے عظیم منصوبے پر پیش رفت، فوجی فرٹلائیزر کمپنی (ایف ایف سی) اور سندھ حکومت کے درمیان اہم بیٹھک،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے فوجی فرٹلائیزر کمپنی (ایف ایف سی) کے سی ای او جہانگیر پیراچہ کی ملاقات،ملاقات میں تھر کے کوئلے سے یوریا کھاد تیار کرنے کے منصوبے پر تفصیلی تبادلۂ خیال،یہ منصوبہ جولائی 2024ء میں وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور اس پر خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہے۔
منصوبے کی بینکیبل فزیبلٹی اسٹڈی نومبر 2025ء میں مکمل کر لی گئی ہے، منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.12 ارب ڈالر ہے، سالانہ 717,000 ٹن یوریا پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی،کوئلے سے یوریا بنانے کا منصوبہ تھر اور پاکستان کے لیے ایک “گیم چینجر” ثابت ہوگا،یہ منصوبہ سندھ کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے،اس منصوبے سے 3,500 سے زائد براہِ راست اور 7,000 سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یوریا کی درآمد میں کمی آئے گی اور ممکنہ طور پر 260 ملین ڈالر تک برآمدات سے قومی خزانے کو فائدہ ہوگا،سندھ حکومت کو سالانہ تقریباً 5.5 ملین ڈالر تک رائلٹی ملنے کا امکان ہے۔سندھ حکومت مکھی فراش سے 12 کیوسک پانی کی فراہم کرے اور اسلام کوٹ میں ملازمین کی کالونی کے لیے زمین کی مختص کی جائے،منصوبے کی کامیابی کے لیے سندھ اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے ٹیکسوں میں سہولیات دینی ہونگی،کوئلے سے یوریا تیار کرنے سے یوریا کی قیمت کم ہوگی، جس سے زرعی شعبے کو نمایاں فائدہ پہنچےگا.
