جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے آئندہ جمعے کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہر شہری کے لیے پریشانی کا باعث بن چکا ہے اور اس نے عام آدمی کا سکون چھین لیا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اور اب اس کے خلاف آواز بلند کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر غور کیا گیا، جس کے بعد احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بعض قوانین، جن میں گھریلو تشدد، ٹرانس جینڈر اور کم عمر شادی سے متعلق اقدامات شامل ہیں، شریعت کے خلاف ہیں اور انہیں ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بیوی کو جائیداد میں حصہ دینے سے متعلق مجوزہ قانون پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی حمایت سے محروم ہے اور پیپلز پارٹی کے سہارے قائم ہے، اس لیے اس کے خلاف احتجاج کرنا ہمارا حق ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ 12 اپریل کو مردان سے ایک بڑے اجتماع کے ذریعے حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور ملک کو درپیش چیلنجز پر سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے۔
انہوں نے عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے اور فلسطین، ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک پر حملے جاری ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
پیٹرول مہنگائی پر فضل الرحمان کا احتجاجی اعلان
