فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مارچ 2026 کے ٹیکس ہدف کے حصول میں بڑی کمی کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو مارچ کے دوران 150 سے 200 ارب روپے تک کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور خطے میں جاری کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنگی صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 150 ارب روپے کم ٹیکس جمع ہونے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی معیشت کی رفتار کو متاثر کیا، جس کا براہ راست اثر محصولات پر پڑا۔
دستاویزات کے مطابق جولائی سے فروری تک ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی 8121 ارب روپے رہی، تاہم مارچ میں برآمد کنندگان کو 60 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز جاری کیے گئے، جس سے ٹیکس آمدن مزید کم ہو گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی سے مارچ تک مجموعی شارٹ فال 600 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جو حکومتی مالیاتی اہداف کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایف بی آر نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر آئی ایم ایف سے ٹیکس ہدف میں کمی کی درخواست بھی کی ہے، تاہم اس پر تاحال کوئی منظوری نہیں ملی۔ ماہرین کے مطابق اگر ہدف پورا نہ ہوا تو حکومت کو اضافی ٹیکس اقدامات یا منی بجٹ لانا پڑ سکتا ہے۔
ایف بی آر کو ٹیکس ہدف میں بڑی کمی کا خدشہ
