امریکی بحریہ کے جدید طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford میں گزشتہ ہفتے لگنے والی آگ پر قابو پانے میں 30 گھنٹوں سے زائد کا وقت لگ گیا، جس کے باعث جہاز پر موجود سینکڑوں اہلکار شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق آگ گزشتہ جمعرات کو جہاز کے مرکزی لانڈری (کپڑے دھونے کے حصے) میں بھڑکی، جو دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گئی۔ آگ بجھانے کے بعد معلوم ہوا کہ 600 سے زائد ملاحوں اور عملے کے افراد کے سونے کے بستر تباہ ہو گئے، جس کے باعث وہ اب فرش اور میزوں پر سونے پر مجبور ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق واقعے میں دو اہلکار زخمی ہوئے جن کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم جہاز پر موجود افراد نے بتایا کہ درجنوں اہلکار دھوئیں سے متاثر ہوئے اور انہیں سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔آگ کے بعد ایک غیر متوقع مسئلہ یہ بھی سامنے آیا کہ جہاز پر لانڈری کی سہولت معطل ہو گئی ہے، جس کے باعث اہلکار کئی دنوں سے کپڑے دھونے سے محروم ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford تقریباً 10 ماہ سے مسلسل تعیناتی پر ہے۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر ایسے مشنز چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہوتے، اور طویل تعیناتی جہاز اور عملے دونوں کے لیے انتہائی تھکا دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ریٹائرڈ امریکی نیوی کے ریئر ایڈمرل John Kirby نے کہا کہ طویل عرصے تک شدید نوعیت کی آپریشنل سرگرمیاں جاری رکھنا نہ صرف جہاز بلکہ عملے کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ نے اس واقعے پر باضابطہ مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔ یہ طیارہ بردار جہاز اس وقت بحیرہ احمر میں ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے، جہاں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔
